خطبات محمود (جلد 18) — Page 535
خطبات محمود ۵۳۵ سال ۱۹۳۷ء کبھی بدخواہی نہیں کی۔میں نے کسی کے خلاف اُس وقت تک قدم نہیں اُٹھا جب تک شریعت مجھے اس قدم کی کے اُٹھانے کی اجازت ہی دیتی۔پس وہ تمام الزامات جو وہ مجھ پر مار پیٹ اور قتل وغیرہ کے سلسلہ میں عائد کرتے ہیں سب غلط اور بے بنیاد ہیں۔بلکہ بیسیوں دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جب بعض لوگوں نے مجھے کہا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے تو میں نے اُن کو ڈانٹا اور کہا کہ یہ شریعت کے خلاف فعل ہے۔ان باتوں کا کبھی دل میں خیال بھی نہیں لانا چاہئے۔اگر اس قدر یقین دلانے کے باوجود بھی وہ ان اپنی باتوں پر قائم رہتے ہیں تو میرے پاس ان کے اعتراضات کا کوئی جواب نہیں اور میں خدا تعالیٰ سے ہی اپیل کرتا ہوں کہ اے خدا! اگر تو نے مجھے عہدہ خلافت پر قائم کیا ہے اور تو نے ہی میرے ہاتھوں اور میری زبان کو بند کیا ہوا ہے تو پھر تو آپ ان مظالم کا جواب دینے کیلئے آسمان سے اتر۔نہ میرے لئے بلکہ اپنی ذات کیلئے ، نہ میرے لئے بلکہ اپنے سلسلہ کیلئے۔مذکورہ بالا خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی آزاد کمیشن بیٹھے تو اس کے سامنے میرے خلاف لڑکوں اور لڑکیوں اور عورتوں کی گواہیاں وہ دلوا دیں گے بلکہ خود میری بھی گواہی دلوادیں گے۔جہاں تک میں سمجھ سکتا ہوں ، میری اپنی گواہی سے لکھنے والے کی مراد شاید یہ ہو کہ وہ کوئی میری تحریر پیش کرنا چاہتے ہیں وَاللَّهُ اَعْلَمُ اور کوئی معنے اس فقرہ کے میرے ذہن میں نہیں آئے۔مگر ایسا ہو تو بھی خلفائے سابق سے میری ایک اور مماثلت ثابت ہو گی۔پہلے خلفاء کے مقابلہ میں بھی لڑکیاں پیش کی گئیں۔پہلے خلفاء کے مقابلہ میں بھی تحریریں پیش کی گئیں۔چاہے ان لڑکیوں کی گواہیاں ہوئیں یا نہ ہوئیں اور چاہے وہ تحریریں کیسی ہی جعلی تھیں مگر بہر حال اس قسم کے دلائل پہلے بھی پیش ہوتے چلے آئے ہیں۔پس ان کی باتوں سے میں نہیں گھبراتا۔میں نے بندوں پر کبھی تو کھل نہیں کیا، میرا تو کل محض خدا کی ذات پر ہے۔اگر میں جماعت سے بھی محبت کرتا ہوں تو صرف اس لئے کہ یہ خدا نے مجھے دی ہے اور اگر جماعت کے کی تمام لوگ مجھ سے الگ ہو جائیں تو میں سمجھ لوں گا کہ یہ خدا نے مجھے نہیں دیئے تھے۔پس مجھے لوگوں کے ارتداد سے گھبراہٹ نہیں مجھے یقین ہے خدا کے وعدوں پر ، مجھے یقین ہے خدا کی نصرتوں پر اور مجھے یقین ہے کہ ہر وہ شخص جو سچے دل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان رکھتا ہے وہ نہیں مرے گا جب تک میری بیعت میں داخل نہ ہوئے۔اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جو شخص مجھے چھوڑتا ہے وہ حضرت