خطبات محمود (جلد 18) — Page 536
خطبات محمود ۵۳۶ سال ۱۹۳۷ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چھوڑتا ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چھوڑتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کو چھوڑتا ہے اور جو رسول کریم ﷺ کو چھوڑتا ہے وہ خدا کو چھوڑتا ہے۔میں اس یقین پری قائم ہوں قرآن مجید کے ماتحت، میں اس یقین پر قائم ہوں حدیث کے ماتحت ، میں اس یقین پر قائم ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے ماتحت، میں اس یقین پر قائم ہوں ان رؤیا و کشوف اور الہامات کے ماتحت جو مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے اور میں اس یقین پر قائم ہوں خدا تعالیٰ کی اُن کھلی کھلی تائیدات کے ماتحت جو ہر وقت میرے شامل حال ہیں۔اگر کسی کو خدا تعالیٰ کا یہ عمل نظر نہیں آتا تو وہ اندھا ہے۔ورنہ جو شخص ایک معمولی بصیرت بھی رکھتا ہو وہ دیکھ سکتا ہے کہ خدا نے ہمیشہ میری امداد فرمائی ہے اور غیب سے میری تائید کے سامان پیدا کئے ہیں اور ہمیشہ اپنے فضل سے وہ میری پشت پناہ بنا رہا ہے۔اس نے ہر لمحہ میری تائید کی، اُس نے ہر گھڑی میری نصرت کی ، اُس نے ہر حملہ سے مجھے بچایا ، اُس نے ہر میدان میں مجھے کامیاب کیا۔میں کمزور ہوں اس کو میں مانتا ہوں، میں کم علم ہوں اس سے کی میں نا واقف نہیں ، میں نالائق ہوں اس سے مجھے انکار نہیں مگر خدا تعالیٰ نے مجھ سے پوچھ کر مجھے خلیفہ نہیں کی بنایا۔اگر وہ پوچھتا تو میں اس سے ضرور کہتا کہ مجھ میں کوئی خوبی اور لیاقت نہیں۔مگر کون ہے جو خدا تعالیٰ سے پوچھے کہ تو نے یہ کام کیوں کیا اور کون ہے جو اس کے فیصلہ پر اعتراض کرے۔جب اُس نے مجھے اس مقام پر کھڑا کر دیا تو اب میں کھڑا ہوں۔اس لئے نہیں کہ اپنی عزت قائم کروں بلکہ اس لئے کہ خدا کی عزت دنیا میں قائم کروں۔پس اُسی کے نام کو قائم کرنے ، اُسی کی عزت کو بلند کرنے اور اُسی کے جلال کو ظاہر کرنے کیلئے میں کھڑا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آخر دم تک کھڑا رہوں گا اور اس کا عمل بتا رہا ہے کہ وہ میرے ساتھ ہے۔پس جو شخص مجھے چھوڑتا ہے وہ خدا کو چھوڑتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی کھلی کھلی تائیدات کو بھی نہیں دیکھ سکتا وہ روحانی اندھا ہے۔اگر وہ راہ راست پر نہیں آسکتا تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔میری تو ہر آن اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ اے خدا! مجھ پر بھی رحم کر اور ان پر بھی جن کو تُو نے میرے ساتھ تعلق پیدا کرنے کیلئے چنا اور اُن پر بھی جو اب تک اس سے محروم ہیں۔جس طرح تیرے فضل نے مجھ جیسے کمز ور کو ڈھانپ لیا، میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ اسی طرح وہ فضل ساری دنیا کو ڈھانپ لے۔وَمَا ذَلِكَ بِبَعِيدٍ