خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 534

خطبات محمود ۵۳۴ سال ۱۹۳۷ء ہوا مگر میں کیا کروں کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ مجھ سے اِحیائے اسلام کا کام لے اور اسلام کی عظمت کو میرے ذریعہ سے قائم کرے اور یہ کام ہو کر رہے گا جلد یا بدیر۔مبارک ہے وہ جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹاتا ہے اور افسوس اُس پر جو میرے راستہ میں کھڑا ہوتا ہے کیونکہ وہ میرا نہیں خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھ سے گنہگار کو اپنے جلال کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔کاش! وہ تو بہ کرتا اور خدا تعالیٰ کے کی اشارہ کو سجھتا، کاش! وہ اپنے آپ کو اس خطر ناک مقام پر کھڑا نہ کرتا کیونکہ اس قسم کے اعتراضوں سے وہ جس مصیبت کو اپنے اوپر سے ٹلانا چاہتا ہے وہ اس کو ٹلاتا نہیں بلکہ ان کی وجہ سے اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے لے آتا ہے۔میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اخلاص اور درد کے ساتھ اسے یہی کہتا ہوں کہ اے آنکہ سُوئے من بد دیدی بصد تبر از باغباں بترس که من شاخ مثمرم میں آخر میں پھر شیخ صاحب سے اخلاص اور خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ جس جس رنگ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا نا میرے لئے ممکن تھا میں نے قسمیں کھالی ہیں اور ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تو بہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں۔میں نے ان کی باتوں کو سنا اور صبر کیا اور اس حدی تک صبر کیا کہ دوسرے لوگ اس حد تک صبر نہیں کر سکتے۔مگر وہ یقین رکھیں اور اگر وہ یقین نہیں کریں گے تو زمانہ اُن کو یقین دلا دے گا اور اگر اس دنیا میں انہیں یقین نہ آیا تو مرنے کے بعد انہیں اس بات کا یقین آجائے گا کہ انہوں نے مجھ پر وہ بدترین ظلم کیا ہے جو زیادہ سے زیادہ انسان دنیا میں کسی پر کر سکتا ہے۔انہوں نے ان حربوں کو استعمال کیا ہے جن حربوں کے استعمال کی اسلام اور قرآن اجازت نہیں دیتا۔میں نے آج تک خدا تعالیٰ کے فضل سے کبھی دیدہ دانستہ دوسرے پر ظلم نہیں کیا اور اگر کسی ایسے شخص کا مقدمہ میرے پاس آ جائے جس سے مجھے کوئی ذاتی رنجش ہو تو میرا طریق یہ ہے کہ میں ہر وقت یہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ الہی ! یہ میرے امتحان کا وقت ہے تو اپنا فضل میرے شامل حال رکھ ایسا نہ ہو کہ میں فیل ہو جاؤں۔ایسا نہ ہو کہ میرے دل کی کوئی رنجش اس فیصلہ پر اثر انداز ہو جائے اور میں انصاف کے خلاف فیصلہ کردوں۔پس میں ہمیشہ دعا کرتا رہتا ہوں تا خدا تعالیٰ مجھے انصاف کی توفیق دے اور میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ہمیشہ انصاف کی توفیق دی ہے۔میں نے شدید سے شدید دشمنوں کی بھی