خطبات محمود (جلد 18) — Page 533
خطبات محمود ۵۳۳ سال ۱۹۳۷ء اور اپنے دشمنوں کو مروا ڈالتا ہوں، غیر از جماعت لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کر دیئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی یہی کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب نے لیکھرام کے قتل ہونے کی پیشگوئی کی اور پھر ایک آدمی بھیج کر ا سے مروا دیا۔گویا انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگا کر ایک ایسا خطرناک حربہ دشمن کے ہاتھ میں دے دیا ہے کہ گو وہ سلسلہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر اس سے وہ ہنسی اور طعن و تشنیع کا نشانہ ضرور بن جاتا تی ے۔انہیں سوچنا چاہئے کہ میں خدا تعالیٰ کی خبر کو کس طرح چھپاؤں۔میں اس بارہ میں بے بس ہوں۔میں قسم کھا سکتا ہوں، ہر سخت سے سخت قسم کہ میں نے جو خبر دی وہ خدا تعالی کی طرف سے تھی میں نے اپنے پاس سے نہیں بنائی اور میں ہر غلیظ سے غلیظ قسم کھا سکتا ہوں کہ اس خبر کے پورا کرنے کیلئے میں نے کوئی سازش نہیں کی۔اس سے زیادہ میں اور کیا ذریعہ تسلی دلانے کیلئے اختیار کر سکتا ہوں۔جو اس پر بھی تسلی نہیں پاتا اس کا علاج خدا تعالیٰ کے پاس ہی ہے میرے پاس نہیں۔مگر بدقسمت ہے وہ جو خدا تعالیٰ کے نشانات سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے اور بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔بے شک خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ يُضِلُّ به كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا 2 کچھ لوگ اس سے ہدایت پاتے ہیں اور کچھ گمراہ ہو جاتے ہیں۔مگر اس قاعدہ کے گمراہی والے حصہ میں شامل ہونا کوئی اچھا مقام نہیں کہ انسان اس مقام پر کھڑا ہونے کی کوشش کرے۔پیشگوئیاں ہمارے لئے کوئی نئی چیز نہیں۔ابھی قریب کے زمانہ میں ہم خدا تعالیٰ کے ایک مامور کی آوازسُن چکے ہیں۔پیشگوئی کے بعد پیشگوئی ہم نے سنی اور پھر اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھی۔پھر کیا ہوا کہ اتنے قلیل عرصہ میں لوگ اس آواز سے نا آشنا ہو گئے اور کیوں نہ ہوا کہ وہ خدا تعالیٰ کی آواز سے فائدہ اُٹھاتے اور انکار کر کے اپنے گناہوں کے بار کو زیادہ نہ کرتے۔اے زمین اور آسمان! تو گواہ رہ کہ میں ان الفاظ کے بیان کرنے میں جو میں نے بیان کئے تھے جھوٹا نہ تھا۔میں نے وہی کہا جو میرے دل اور کانوں پر نازل ہوا اور میں نے افتراء نہیں کیا اور میں خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے کو جی لعنتیوں کا کام سمجھتا ہوں۔اور مجھے ایسا کہنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود کہہ چکا ہے کہ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا ؟ میں نے صرف وہی کہا جو میرے روحانی کانوں نے سنا اور میرے دل نے محسوس کیا اور اسی دفعہ نہیں میں نے بہت دفعہ آسمانی آواز کو سنا ہے۔اور یہ کوئی میرا ذاتی فخر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا محض احسان ہے ورنہ میں تو ایک ناکارہ وجود ہوں ، گناہوں سے پُر ، خطاؤں سے بھرا