خطبات محمود (جلد 18) — Page 532
خطبات محمود ۵۳۲ سال ۱۹۳۷ء میں رکھنا نہیں چاہتا اس لئے میں ان کے وسوسہ کو دور کرنے اور ان کے خدشات کو مٹانے کیلئے وہ بات کہتا ہوں جس کی مجھے عام حالات میں ضرورت نہیں تھی اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ میں نے کسی کو پٹوانا اور قتل کروانا تو الگ رہا آج تک سازش سے کسی کو چیرہ بھی نہیں لگوائی۔کسی پر اُنگلی بھی نہیں اُٹھوائی اور نہ میرے قلب کے کسی گوشہ میں یہ بات آئی ہے کہ کی میں خدانخواستہ آئندہ کسی کو قتل کرواؤں یا قتل تو الگ رہانا جائز طور پر پٹوا ہی دوں۔اگر میں اس قسم میں کی ز جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی لعنت مجھ پر اور میری اولاد پر ہو۔ان لوگوں نے میری صحبت میں ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔اگر یہ لوگ تعصب سے سے بالکل ہی عقل نہ کھو چکے ہوتے تو یہ ان باتوں سے شک میں پڑنے کی بجائے خود ہی ان باتوں کو رڈ کر دیتے۔خدا تعالیٰ نے مجھے ظالم نہیں بنایا ، اس نے مجھے ایک ہمدرد دل دیا ہے جو ساری عمر دنیا کے غموں میں گھلتا رہا اور کھل رہا ہے۔ایک محبت کرنے والا دل جس میں سب دنیا کی خیر خواہی ہے ، ایک ایسا دل جس کی بڑی خواہش ہی یہ ہے کہ وہ اور اس کی اولا د اللہ تعالیٰ کے عشق کے بعد اس کے بندوں کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کریں۔ان امور میں مجبوریوں یا غلطیوں کی وجہ سے کوئی کمی آجائے تو آ جائے مگر اس کے ارادہ میں اس بارہ میں کبھی کمی نہیں آئی۔میں اصل مضمون سے دُور چلا گیا۔میں ان لوگوں کی تسلی کیلئے اس سے بھی بڑھ کر ایک قدم اُٹھاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر جماعت میں کوئی ایسا شخص ہے جسے میں نے کبھی بھی کسی کے قتل یا مخفی طور پر پیٹنے کا حکم دیا ہو ( مخفی کی شرط میں نے اس لئے لگائی ہے کہ قضاء کی سزاؤں میں ان لوگوں کو جنہیں سزا دینے کا ہم کو شرعی اور قانونی حق ہوتا ہے کبھی بدنی سزا بھی دلوا دیتے ہیں )۔تو اسے میں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ اس امر کو ظاہر کر دے تاکہ اگر میں جھوٹا ہوں تو دنیا پر میرا جھوٹ کھل جائے۔پھر میں اس سے بھی بڑھ کر ایک اور قدم اُٹھاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ہمیشہ ایسے افعال کو نا پسند کیا ہے جن میں ظلم پایا جائے اور ظاہر اور مخفی ہر طرح ان افعال کو روکنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ہاں اگر خدا کی بتائی ہوئی تقدیریں پوری ہوں تو ان میں میرا کوئی دخل نہیں۔وہ خدا کا اپنا کام ہے جو وہ کرتا ہے اور مجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔مجھ پر الزام تبھی آسکتا ہے کہ میرے منصوبہ یا اشارہ سے کوئی بات ہو۔لیکن میں انہیں کہتا ہوں انہوں نے مجھے پر یہ اعتراض کر کر کے کہ میں پہلے اپنے دشمنوں کی تباہی کے متعلق ایک پیشگوئی کرتا ہوں اور پھر انسانوں کی منت سماجت کر کے اسے پورا کروا تا کی