خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 525

خطبات محمود ۵۲۵ سال ۱۹۳۷ء گا ۔ پھر تم نے دیکھا کہ خدا تعالی کی اس پیشگوئی کے بعد کس طرح دشمنوں پر آسمان سے تباہی نازل ہوئی اور ان کی طاقت کو اس نے توڑ کر رکھ دیا۔ پس میں پھر انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کہ خدا تعالیٰ کی بخشش نہایت وسیع ہے، اس کی بخشش کے دامن میں پناہ لیں ۔ بیشک اس کے پاس عذاب بھی ہے اور تباہیاں بھی لیکن اس کے پاس برکتیں بھی ہیں اور عفو کے خزانے بھی ہیں بلکہ وہ فرماتا ہے رَحْمَتِی وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ کے میری رحمت باقی ہر چیز پر غالب ہے۔ پس اُس سے وہ چیز کیوں نہ مانگی جائے جس کے متعلق وہ کہتا ہے کہ میرے پاس بہت ہے اور اس سے وہ چیز کیوں مانگی جائے جس کے متعلق وہ کہتا ہے کہ اس کا دینا میں پسند نہیں کرتا ۔ وہ کہتا ہے عذاب دینا مجھے پسند نہیں اور عذاب دینے میں میں ڈھیلا ہوں لیکن رحم کرنے میں بڑا تیز ہوں ۔ پس وہ چیز خدا تعالیٰ سے مانگو جس کے متعلق وہ کہہ رہا ہے کہ مجھ سے مانگو۔ وہ چیز اس سے کیوں مانگتے ہوں جس کے متعلق وہ یہ کہتا ہے کہ میں وہ دینا نہیں چاہتا۔ ممکن ہے کہ پھر وہ کہیں جب خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر عذاب نہیں مانگنا چاہئے تو پھر تم نے مؤکد بعذاب قسمیں کیوں کھا ئیں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے خدا خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کی بناء پر قسمیں کھائیں ہیں۔ میں نے ان رؤیا ، کشوف اور الہامات کی بنا پر قسمیں کھائی ہیں جو ایک ربع صدی سے مجھ پر نازل ہو رہے ہیں ۔ پھر ان الہامات کے علاوہ بیسیوں نہیں سینکڑوں خوابیں ہیں جو پرائیویٹ مجالس میں میں نے بیان کیں اور پوری ہوئیں اور ان کے علاوہ بہت سی خوابیں ایسی ہیں جو گو میں نے بیان نہیں کیں لیکن وہ فلق الصبح کی طرح پوری ہوئیں ۔ پس میں نے ان کشوف اور رویا کی بناء پر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے دکھائے گئے اور جن میں غیب کی خبریں پائی جاتی تھیں جو اپنے وقت پر پوری ہوئیں یہ قسمیں کھائی ہیں اور میں نے ان الہامات کی بناء پر قسمیں کھائی ہیں جو میرے نفس کی طرف سے نہیں اور جن میں قیاس کا کوئی دخل نہیں بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ چونکہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور پھر رمضان کا یہ مبارک مہینہ ہے، اس لئے میں پھر انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ڈریں اور خدا تعالیٰ کا خوف کریں ۔ بے شک وہ اپنے طریق عمل کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اصلاح کا طریق ہے مگر قرآن مجید کہتا ہے بعض لوگ کہتے ہیں ہم صلح جو ہیں حالانکہ وہ صلح پسند نہیں بلکہ فتنہ انداز ہوتے ہیں ۔ پس وہ خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈریں اور سمجھیں کہ کہیں میں فتنہ تو پیدا نہیں کر رہا۔ جماعت میں فتنہ پیدا کرنے میں تو وہ اب