خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 514

خطبات محمود ۵۱۴ سال ۱۹۳۷ء ہوں پہنچ جائیں۔اُس وقت ایک عورت دیوانہ وار میدان جنگ میں پھرنے لگی اور بغیر اس خیال کے کہ کوئی مسلمان سپاہی اُسے گرفتار کر لے گا، وہ ایک جوش اور جنون کی حالت میں کبھی ایک بچہ کو اٹھاتی اور کبھی دوسرے کو۔رسول کریم ﷺ نے اس عورت کو دیکھا تو صحابہ سے فرمایا تمہیں پتہ ہے یہ عورت کیوں اس میدان میں گھبرائی ہوئی پھر رہی ہے؟ پھر خود ہی فرمایا اس عورت کا بچہ کھو گیا ہے اور یہ اسے تلاش کی کر رہی ہے۔مگر دیکھو اپنے بچہ کی محبت میں اسے یہ ہوش ہی نہیں کہ یہاں کیا تباہی مچی ہوئی ہے۔چنانچہ وہ عورت اس میدان میں جو نہی کسی بچہ کو دیکھتی دوڑ کر اُس سے چمٹ جاتی اور اسے گلے لگا لیتی اور جب دیکھتی کہ وہ اس کا بچہ نہیں تو اسے پیار کر کے چھوڑ دیتی۔پھر آگے بڑھتی اور جب کوئی اور بچہ اسے نظر آتا تو ی دوڑ کر اُسے گلے لگا لیتی اور جب دیکھتی کہ وہ بھی اس کا بچہ نہیں تو اسے بھی پیار کر کے چھوڑ دیتی اور پھر دیوانہ وار ادھر اُدھر تلاش کرنے لگ جاتی۔آخر اسی طرح تلاش کرتے کرتے اُسے اپنا بچہ مل گیا۔اس نے اپنے بچہ کو گلے سے چمٹالیا اور چھاتی سے لگا کر اسے پیار کرنے لگی اور پھر نہایت اطمینان سے وہیں بیٹھ گئی اور دنیا جہان سے بالکل غافل ہو گئی۔وہ اس بات کو بھول گئی کہ یہاں کوئی جنگ ہورہی ہے ، وہ اس بات کو بھول گئی کہ یہاں لوگ قتل ہورہے ہیں ، وہ اس بات کو بھول گئی کہ یہاں ہر لمحہ جان جانے کا خطرہ ہے۔وہ دنیا وَمَافِیھا سے غافل ہوگئی اور جب اسے اپنا بچہل گیا تو اس نے سمجھا کہ اب میر۔لئے امن ہی امن ہے۔رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا تم نے اس عورت کو دیکھا جب اسے اپنا بچہل گیا تو یہ کس اطمینان سے بیٹھ گئی لیکن جب کھویا ہوا تھا تو کیسی مضطرب اور بے قرار تھی۔پھر آپ نے فرمایا یہی مثال اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت کی ہے بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ محبت رکھتا ہے جو بندہ اپنے گنا ہوں اور اپنی خطاؤں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو کھودیتا ہے اس کا خدا تعالیٰ کو ایسا ہی قلق ہوتا ہے جیسے اس عورت کو اپنے بچہ کے کھوئے جانے پر ہوا۔اور پھر جب بندہ تو بہ کر کے اس کی طرف واپس آتا ہے تو اسے ویسی ہی خوشی ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جیسی اس عورت کو اپنا بچہ ملنے پر ہوئی۔ھے تو ہمارا خدا ہمیں بخشنے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ ہم اس کی بخشش کو ڈھونڈ نے کیلئے تیار ہوں۔۔وہ دیکھ رہا ہے کہ ہم کب اس کی طرف بڑھتے ہیں۔وہ ہمارا انتظار کر رہا ہے اور اگر خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق یہ الفاظ استعمال کرنے جائز ہوتے تو میں کہتا کہ وہ مضطرب ہے۔وہ ایک گھبراہٹ اور قلق میں ہے کہ میرا بندہ میرے پاس کیوں نہیں آتا۔دیر صرف ہماری ہی طرف سے ہے، کوتا ہی صرف ہماری ہی