خطبات محمود (جلد 18) — Page 506
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء بیعت ہی کیوں کی ہوئی ہے۔جوشخص بیعت میں شامل ہوتا ہے وہ اسی لئے ہوتا ہے کہ میں کچھ سکھوں اور اس کے باوجود اگر وہ بے پروائی کرتا ہے تو اس کے صاف معنے ہیں کہ وہ مجھے اپنا اُستاد بنا کر اور ہاتھ میں کی ہاتھ دے کر بھی دنیا کو دھوکا دے رہا ہے اور اپنے نفس کو بھی دھوکا دے رہا ہے۔سکول میں جا کر وہی لڑکا کچھ سیکھ سکتا ہے جو سمجھتا ہے کہ اُستاد مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور اس کی عزت اور احترام کرتا ہے۔اسی تی طرح خلافت ایک مدرسہ ہے اور خلیفہ اُستاد ہے اور جو یہ خیال کرتا ہے کہ یہ استاد مجھے کچھ نہیں سکھا سکتا اس کا اس مدرسہ میں داخل ہونا فضول ہے۔پس میں نے جو تحریک کی تھی ، ہر شخص کو چاہئے کہ دیکھے اس پر عمل کرنے سے مجھے فائدہ ہوا ہے یا نقصان۔اگر اسے نقصان نظر آئے اور وہ سمجھے کہ اس پر عمل کر کے وہ خدا تعالیٰ سے دُور ہو گیا ہے تو اسے چاہئے کہ الگ ہو جائے۔مثلاً میں نے کہا تھا کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالو۔ایک ہی کھانا کھاؤ، کپڑوں میں کمی کرو۔یہ نہیں کہ امراء بھی کھدر پہنیں بلکہ یہ کہ جو چارکوٹ بنوا تا تھا وہ اب تین ہی بنوائے اور جو تین بنوا تا تھا وہ دو سے ہی گزارہ کرے اور جو پیسے بچیں وہ غریبوں پر خرچ کرے۔یا مثلاً سینما میں کوئی نہ جائے۔اب ہر شخص غور کرے کہ ان باتوں پر عمل کرنے سے اس کی روحانیت پر ضرب لگی ہے یا ترقی میں مددملی ہے۔اگر وہ سمجھے کہ ضرب لگی ہے تو پھر وہ اس امر پر غور کرے کہ اس کا میرے ہاتھ میں ہاتھ دینا کس کام کا۔اور اگر سمجھے کہ فائدہ ہوا ہے تو اسے چاہئے کہ پھر آئندہ پیش ہونے والی سکیم پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو جائے۔اور اگر وہ دیکھے کہ تحریک تو مفید تھی مگر اس نے عمل نہیں کیا۔تو پھر اسے غور کرنا چاہئے کہ جو شخص چشمہ پر بیٹھنے کے باوجود پانی نہیں پیتا وہ کس قدر بیوقوف ہے۔پس جن کو فائدہ ہوا ہے وہ پہلے سے زیادہ عمل کرنے کیلئے تیار ہو جائیں اور جس نے عمل ہی نہیں کیا وہ اپنی اصلاح کرے۔اس کے علاوہ دوستوں کو چاہئے کہ اپنے وعدے جلد پورے کریں۔اس سال قادیان کی جماعت پر بھی بقایا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اقتصادی تغیرات ہوئے ہیں۔ان کی تنخواہیں پہلے ہی کم تھیں اور اس سال ان میں بھی تخفیف کر دی گئی ہے۔پھر غلہ بھی گراں رہا ہے مگر مومن کے وعدے ایسے نہیں ہوتے کہ ایسی باتیں ان کے پورا ہونے میں روک بن سکیں۔لاہور کی جماعت بھی اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں اچھی ثابت نہیں ہوئی۔پھر ہندوستان کے باہر کی جماعتوں کے ذمہ۔۲۵۰۰۰ کی رقم بقایای ہے۔اس میں شک نہیں کہ ابھی ان کی مدت جون ۱۹۳۸ ء تک ہے مگر رقم بھی ابھی بہت زیادہ ہے اور ان