خطبات محمود (جلد 18) — Page 493
خطبات محمود ۴۹۳ (۳۳) سال ۱۹۳۷ء اپنے مقصود کو کبھی بھولنا نہیں چاہئے (فرموده ۱۵ نومبر ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- سب سے۔ رف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ عقلمند انسان کو کبھی ؟ پہلے تو میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا بھی اپنے مقصود کو نہیں بھولنا چاہئے ۔ جو انسان اپنے مقصد کو بھول جاتا ہے وہ وہ کہیں کا بھی نہیں رہتا کیونکہ دوسرے مقاصد کیلئے تو وہ کوششیں کر نہیں رہا ہوتا ۔ پس جو مقصد اس کا ہوتا ہے اسے بھی اگر بھول جائے تو اس کے تمام کاموں اور جدو جہد کا نتیجہ صفر رہ جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيُّهَا یعنی ہر انسان کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور وہ اس مقصد کیلئے اپنی ساری جد و جہد کو وقف کر دیتا ہے اور یہی چیز انسان کی تمام کامیابیوں کی جڑ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی ترقی کیلئے یہ اصل مقرر کر دیا ہے کہ کوشش کچھ نہ کچھ نتیجہ پیدا کر ہی دیتی ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے كُلَّا نُمِدُّ هَؤُلاءِ وَ هَؤُلاءِ کے یعنی ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ۔ کوئی نیک ہو یا بد ہم نے دنیا میں یہ قانون جاری کر دیا ہوا ہے کہ جو شخص کسی مقصد کیلئے کوشش ، محنت اور سعی کرے تو جس مقصد کیلئے وہ ایسا کرے اگر اس کی کوشش اس مقصد میں کامیابی کے ذرائع کے مطابق ہو تو اسے کامیاب کر دیتے ہیں ۔ ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ، ان کی یعنی نیکوں کی بھی اور ان کی یعنی بدوں کی بھی ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس قانون کا اتنا احترام کیا ہے کہ کوئی انسان خواہ سچے دین کا پیرو نہ ہو تب بھی اس کی کوششیں اگر صحیح ہوں نتیجہ خیز ہوتی ہیں ۔ بلکہ جو لوگ سچے دین کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اگر جد و جہد کرتے ہیں تو گو کامیاب نہیں