خطبات محمود (جلد 18) — Page 494
خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۳۷ء ہوتے مگر سچائی کے راستہ میں مشکلات ضرور پیدا کر دیتے ہیں۔انجام تو بہر حال نیکیوں کا ہی اچھا ہوتا ہے۔مگر بدوں کی کوششیں بظاہر ایسی فضا پیدا کر دیتی ہیں کہ دیکھنے والے شروع میں سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید نبیوں کے دشمن کامیاب ہو جائیں گے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَّلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطنُ فِي أُمُنِيَّتِهِ " یعنی جب بھی کوئی مقصد عالی لے کر کھڑا ہو شیطان ضرور اس کے راستہ میں روک ڈال دیتا ہے۔یعنی یہ نہیں ہوتا کہ وہ روک ڈال ہی نہ سکے روک ضرور ڈال دیتا ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ خاص اُس روک کو دور کر کے نبیوں کو کامیاب کر دیتی ہے۔تو جد و جہد اگر بُرے مقصد کیلئے بھی ہو عارضی کامیابی پیدا کر دیتی ہے اور اگر سچائی کے مقابل پر نہ ہو تو خواہ کا فر کی صحیح جد و جہد ہو نتیجہ خیز ہوتی ہے۔دیکھ لو مکہ والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی۔انہوں نے اپنا یہ مقصد قرار دے دیا کہ محمد (ع) کو زک پہنچانی ہے اور آپ کو مکہ سے نکال دینا ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ ایک نبی اور پھر اس نبی کو جو تمام نبیوں کا سردار ہے وہ حقیقی زک نہیں پہنچا سکتے تھے۔لیکن اس میں کیا شک ہے کہ اس حد تک وہ اپنی کوششوں میں ضرور کامیاب ہو گئے کہ آنحضرت ﷺ کو مکہ چھوڑنا پڑا۔اور ان کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ ہم کامیاب ہو گئے ہیں اور کہ ہم نے ملکہ کومحمد (ﷺ) کے وجود سے نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلک ) پاک کر دیا ہے۔اگر چہ خدا تعالیٰ نے اُن کو جھوٹا کیا اور بتادیا کہ جس کے مکہ سے جانے کو وہ مکہ کی پاکی کا موجب سمجھتے تھے اس کا جانا دراصل مکہ والوں کی ہلاکت کا موجب تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيْهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ یعنی مکہ والے خوش ہیں کہ انہوں نے مکہ کو بزعم خود پاک کر لیا ہے۔لیکن انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنے کے لئے دو ہی طریق مقرر ہیں۔یا تو یہ کہ وہ لوگ نیک ہوں تانی اور استغفار میں لگے رہتے ہوں اور یا پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا رسول ان میں ہوا اور انہیں رسول کی صحبت جسمانی حاصل ہو۔رسول کا جسمانی قرب بھی انسان کو بہت سے عذابوں سے بچا لیتا ہے۔غرض یہی قانون دنیا میں رائج ہے کہ یا تو وہ لوگ عذاب سے بچائے جاتے ہیں جو نیک ہوں اور یا پھر جو رسولی کے اس قدر قریب ہوں کہ ان پر عذاب کا اثر رسول اور اس کے ساتھیوں پر بھی پڑسکتا ہو۔پس اللہ تعالی ان فرماتا ہے کہ مکہ والے تو خوش ہیں کہ انہوں نے محمد ( ﷺ ) کو نکال لیا ہے اور مکہ کو بزعم خود پاک کر دیا