خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 489

خطبات محمود ۴۸۹ سال ۱۹۳۷ء کانوں میں یہ آواز آئے کہ کوئی شخص ای اے سی ہو اور وہ کہہ رہا ہو کہ میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں یا کوئی زمیندار یہ کہہ رہا ہو کہ میں اپنی زمین چھوڑتا ہوں ۔ غرض اُس زمانہ میں غلام کو آزاد کرنے کے معنے یہ تھے کہ اس کے ذریعہ سے جس قدر آمد ہوتی تھی وہ سب جاتی رہے گی ۔ مگر اُس صحابی نے جب دیکھا کہ مجھ سے ایک قصور ہوا ہے اور خدا تعالیٰ کی آواز اس کے رسول کے ذریعہ سے مجھے کسی اور طرف بلاتی ہے تو اس نے اس غلام کو آزاد کر دیا۔ تو خدا تعالیٰ کی آواز جب کسی اخلاص رکھنے والے انسان کو سنائی دیتی ہے تو اس کا رنگ بالکل بدل دیتی ہے اور اسے بڑی سے بڑی قربانیوں پر آمادہ کر دیتی ہے ۔ پس تم خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرو۔ سلسلہ کے کاموں کو اپنے کاموں پر مقدم سمجھو۔سلسلہ کی تبلیغ کو اپنے بیوی بچوں بچوں سے باتیں کرنے پر مقدم سمجھو۔ سلسلہ کی مالی ضروریات کوا یات کو اپنی مالی ضروریات پر مقدم سمجھو اور اپنے اندر وہ حالت پیدا کر لو کہ جب بھی خدا کی آواز تمہارے کانوں میں پڑے تمہارا سر اُسی جگہ جھک جائے اور تمہارے اندر اس کے خلاف ایک ذراسی بھی جنبش پیدا نہ ہو۔ یہ وہ ایمان ہے جو حقیقی ایمان کہلاتا ہے۔ اور یہ وہ ایمان ہے جو دل سے ہر قسم کا گند دور کر کے انسان کو قوم کا سپاہی بنا دیتا ہے۔ قادیان والوں پر خصوصیت سے بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے ۔ انہیں سچائی پر دوسروں سے زیادہ جوش سے قائم ہونا چاہئے ۔ انہیں نمازیں دوسروں سے زیادہ مداومت کے ساتھ پڑھنی چاہئیں ۔ انہیں تبلیغ دوسروں سے زیادہ عمدگی سے کرنی چاہئے ۔ انہیں مالی قربانی دوسروں سے بہت بڑھ کر کرنی چاہئے ۔ کیونکہ یہی وہ نعمتیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے لئے لائے ۔ اگر یہ تہمتیں کسی کو حاصل نہیں اور وہ قادیان میں محض تجارت یا زراعت یا ملازمت اپنا پیشہ بنا کر رہائش اختیار کئے ہوئے ہے، تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کوئی چیز نہیں ۔ اگر وہ باہر پچاس ساٹھ کماتا تھا اور یہاں اُس نے دوسو ماہوار بھی کمالئے تب بھی یہ بالکل حقیر اور ذلیل چیز ہے ۔ تم سے زیادہ کمانے والے تم سے زیادہ تجارتیں کرنے والے تم سے زیادہ زراعتیں کرنے والے تم سے زیادہ دُنیوی کاموں میں دسترس رکھنے والے دنیا میں موجود ہیں ، پھر سوچو کہ انہوں نے کیا بنالیا ۔ مگر جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی خاطر قربانیاں کی ہیں، دنیا سینکڑوں سالوں سے ان کی اولادوں اور نسلوں کی بھی غلام بنی چلی آ رہی ہے۔ یزید نے بے شک رسول کریم ﷺ کے نواسے کو اُس نواسے کو جسے رسول کریم ﷺ نے اپنی گود میں اُٹھا یا شہید صلى الله صلى الله