خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 488

خطبات محمود ۴۸۸ سال ۱۹۳۷ء سے اُسے مارنے کیلئے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور اُس نے میری ضرب کو روکنے کیلئے ہاتھ اُٹھایا جسے دیکھ کر مجھے اور غصہ آیا اور میں نے اور زیادہ زور سے ہاتھ پیچھے لے جا کر اُسے مکا مارنا چاہا۔یہ دیکھ کر اُس نے یا تو یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے مقابلہ میں میرا ہاتھ اٹھانا بے ادبی ہوگا اور یا یہ سمجھتے ہوئے کہ انہیں غصہ بہت چڑھا ہوا ہے اگر میں نے ضرب رو کی تو انہیں اور زیادہ غصہ آئے گا اُس نے اپنا ہاتھ ہٹالیا اور میری طرف منہ کر کے بولا لو جی مارلو۔جس طرح پتھر گر پڑتا ہے اسی طرح میرا ہاتھ جو بڑے جوش سے اُٹھا ہوا تھا بریکار ہوکر نیچے گر گیا اور اُس کے سامنے سے ہٹتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ گویا وہ حقدار ہے اور میں مجرم ہوں۔تو اگر معمولی اخلاق انسان کے قلب پر اتنا عظیم الشان اثر کر سکتے ہیں پھر کس طرح ممکن ہے کہ ایک انسان کو خدا تعالیٰ کی یہ آواز آرہی ہو کہ میرے بندے میری طرف آ اور وہ اس کی طرف دوڑ نہ پڑے۔اگر اس میں ایک شمہ بھر بھی خدا تعالیٰ کی محبت ہوگی تو ناممکن ہے کہ اس کا پاؤں کسی اور طرف اُٹھے۔حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ ایک شخص اپنے غلام کو مارنے لگا کہ اسے پیچھے کی طرف سے 109- ایک آواز آئی کہ یہ کیا جاہلیت کی حرکت کر رہے ہو۔اُس نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول کریم تے تھے۔صحابی کہتے ہیں میں اُس وقت نہایت جوش کی حالت میں تھا کیونکہ اُس غلام نے کوئی نہایت ہی بیہودہ ان حرکت کی تھی اور میں نے اُسے مارنے کیلئے اپنے ہاتھ میں کوڑا اُٹھایا ہوا تھا اور ایک کوڑا لگا چکا تھا کہ مجھے کی رسول کریم ﷺ کی یہ آواز آئی کہ یہ کیا جاہلیت کی بات ہے۔وہ صحابی کہتے ہیں یہ آواز سن کر مجھے اس قدر ندامت ہوئی کہ میں نے اپنے دل میں کہا کاش ! میں اس سے پہلے مر چکا ہوتا اور رسول کریم ہی ہے کی ہیبت کی وجہ سے کوڑا میرے ہاتھ سے گر گیا۔میں نہایت شرمند ہو کر مجرم کی طرح آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ میں اسے نہیں مارتا۔آپ نے فرمایا اب کیا ہے اب تو تم اسے مار ہی کی چکے۔میں نے کہا يَارَسُولَ اللهِ پھر میرے اس گناہ کا کیا کفارہ ہے۔آپ نے فرمایا اس کا کفارہ اس کی آزادی ہے۔چنانچہ اُس صحابی نے اُسی وقت اُس غلام سے کہہ دیا کہ آج سے میں نے تجھ کو آزاد کیا۔تم جو غلام رکھنے کے عادی نہیں ہو تم نہیں سمجھ سکتے کہ اس زمانہ میں غلام کی کیا قیمت ہوتی تھی۔اس زمانہ میں غلام کی جس قدرآمد ہوا کرتی تھی وہ اُس کی نہیں بلکہ اُس کے آقا کی ہوا کرتی تھی۔گویا غلام کی اپنے آقا کیلئے روزی کمایا کرتا تھا۔پس میں نے تجھ کو آزاد کیا یہ ایسے ہی الفاظ ہیں جیسے تمہار۔