خطبات محمود (جلد 18) — Page 487
خطبات محمود ۴۸۷ سال ۱۹۳۷ء ملازمتوں کو ترک کر کے اللہ تعالی کی آواز پر حاضر ہو جاؤ اور اگر تم ایسا کرو تو پھر تم دنیا دار نہیں بلکہ دیندار کہلاؤ گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ حضرت امام حسن نے پوچھا کہ کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ۔ پھر انہوں نے سوال کیا کہ آپ کو خدا تعالیٰ سے بھی محبت ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ حضرت امام حسن کہنے لگے پھر تو یہ شرک ہے۔ حضرت علیؓ نے ابھی اس کا کوئی جواب نہ دیا تھا کہ جھٹ حضرت امام حسن نے آپ ہی سوال کر دیا کہ اگر خدا تعالیٰ کی محبت آپ کو ایک طرف کھینچتی ہو اور میری محبت دوسری طرف تو آپ کس راہ کو اختیار کریں گے؟ انہوں نے کہا میں خدا تعالیٰ کی محبت کے راستہ کو ہی اختیار کروں گا۔ اس پر امام حسن بولے تب آپ مشرک نہیں ۔ تو وہ بندہ جو خدا تعالیٰ کی آواز سن کر رُک جاتا ہے وہ اگر دنیا کے کاموں میں بھی مشغول ہو تو وہ دنیا دار نہیں بلکہ دیندار ہے اور میں نہیں سمجھ سکتا دنیا میں کوئی شخص ایسا ہو جس کے اندر حقیقی ایمان کا شائبہ بھی پایا جاتا ہو اور وہ خدا تعالیٰ کی آواز سن کر اپنی ہوا و ہوس کے اتباع سے نہ رک سکے ۔ دنیا میں تو ہم دیکھتے ہیں اگر معمولی جذبات بھی ابھر آئیں تو انسان کے ہاتھ کو رنگ دیتے ہیں ۔ کجا یہ کہ ایمان کا دعوی ہو اور خدا تعالیٰ کی آواز آئے اور انسان کا ہاتھ نہ رکے ۔ مجھے یاد ہے بچپن میں میری ایک کشتی تھی جو برسات کے دنوں میں لڑکے لے جاتے اور سارا دن اُس پر کودتے اور توڑتے رہتے ۔ ایک دفعہ میں نے بعض لڑکوں کو مقر ر کیا کہ اب کی دفعہ کوئی کشتی لے جائے تو مجھے اطلاع دینا ۔ چنانچہ انہوں نے ایک دن مجھے اطلاع دی کہ آپکی کشتی فلاں فلاں لڑکے لے گئے ہیں اور وہ پانی میں کھیل کو درہے ہیں۔ اس پر میں وہاں گیا میں نے دیکھا کہ پندرہ بیس لڑ کے اس پر بیٹھے ہیں ۔ (حالانکہ اس کشتی پر صرف پانچ سات لڑکے بیٹھ سکتے تھے ) اور خوب کھیل کو د رہے اور شور مچا رہے ہیں ۔ کشتی کے اندر پانی بھرا ہوا ہے اور وہ پانی میں ڈوب رہی ہے۔ میں نے قریب جا کر جو اُن کو آواز دی تو وہ لڑکے کچھ گھبرا سے گئے ۔ کچھ اس لئے کہ کشتی کا مالک میں تھا اور کچھ اس لئے کہ قادیان ہماری ملکیت ہے اور وہ خوفزدہ ہو کر بھاگے اور پانی میں کود پڑے اور تیرتے ہوئے اِدھر اُدھر نکل گئے ۔ میرے قابو اور تو کوئی نہ آیا صرف ایک لڑکا میرے قابو چڑھ گیا ۔ کیونکہ اُسے نکلنے کیلئے اور کوئی رستہ نہ ملا اور جس جگہ سے وہ نکلا وہاں میں کھڑا تھا۔ بچپن کی عمر تھی اور غصہ مجھے بے انتہا آیا ہوا تھا۔ میں نے جوش