خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 461

خطبات محمود ۴۶۱ سال ۱۹۳۷ء وسطی صدیوں میں یورپ میں مذہب کی خاطر بڑے قتل ہوتے تھے اور حکومتیں اس میں لذت حاصل کیا کرتی تھیں۔اگر کیتھولک خیالات کے لوگوں کی حکومت ہوتی تو پروٹسٹنٹوں کو قتل کر دیا جاتا تھا اور پروٹسٹنٹوں کی حکومت ہوتی تو وہ کیتھولک فرقہ کے لوگ قتل کراتے تھے اور بعض جگہ ایک ایک دن میں چار چار پانچ پانچ سو بلکہ ایک ایک ہزار تک لوگ قتل کر دئیے جاتے تھے۔آگ جلا کر ماؤں، بہنوں ، بیویوں اور بچوں کو زندہ اس میں ڈال دیا جاتا تھا اور لوگ سامنے کھڑے ہنستے رہتے تھے۔ان کے نزدیک یہ کوئی خاص بات ہی نہ تھی۔اسی طرح مرنے والے بھی اس کی کوئی حقیقت نہ سمجھتے تھے۔کیونکہ ان کے سامنے روزانہ یہی کام ہوتا تھا۔جس فرقہ کو غلبہ حاصل ہو جاتا وہ دوسرے سے ایسا سلوک کرتا تھا۔اور لوگوں کی ذہنیت ایسی ہوگئی تھی کہ جہاں قتل نہ ہوں لوگ شور مچادیتے تھے کہ آج حکومت نے کوئی تماشہ نہیں دکھایا۔آجکل سپین میں یہی حالت ہے۔دو مختلف خیالات کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں۔وہاں کے حالات کے متعلق مجھے ایک رپورٹ ملی تھی کہ ایک دن میڈرڈ میں صرف پچاس آدمی قتل ہوئے تو عورتوں نے شور مچادیا کہ حکومت نے پبلک کی خیر خواہی کا آج کوئی کام نہیں کیا۔کیونکہ جہاں روزانہ دو تین سو قتل ہوتے تھے آج صرف پچاس ہوئے ہیں اور ایسے قتل کے جواز کیلئے کسی تحقیقات کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔کسی مشتبہ آدمی سے بات کرتا دیکھا گیا یا کوئی مشتبہ خط اس سے پکڑا گیا ، اسی کی بات پر نہایت ظالمانہ طریق پر لوگوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔لٹا کر آنکھیں نکال دی جاتی ہیں، مختلف اعضاء کاٹ دیئے جاتے ہیں اور پھر ایسا کرنے والے ایسے ظالمانہ افعال پر خوش ہوتے ہیں اور قتل ہونے والے بھی خوش ہی ہوتے ہیں کیونکہ قتلوں کی عام مصیبت اور فتنہ کی وجہ سے عادت ہو جاتی ہے۔وہ لوگ زندگی کی قدر ہی نہیں جانتے۔وہ جانتے ہیں کہ اگر آج بچ گئے تو کل مارے جائیں گے۔ان کا نقطۂ نگاہ ہی بدل جاتا ہے اور یہ لوگ ایسے ایسے سخت کام کر لیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے اور ی یہ عادت کی بات ہے۔ایک دوست نے ایک اور دوست کی نسبت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی تھے سنایا کہ ان کے والد نے جو مظفر گڑھ کے علاقہ کے راجہ تھے ، دربار کشمیر کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔اُس کی زمانہ میں انگریز نئے نئے آئے تھے اور سکھوں کا عہدِ حکومت قریب زمانہ میں ختم ہوا تھا اور ابھی حکومتی کا پورا تصرف راجوں مہاراجوں پر نہ ہوا تھا ، وہ خود بھی جنگیں کر لیتے تھے۔اس جنگ میں اُن کو شکست این