خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 462

خطبات محمود ۴۶۲ سال ۱۹۳۷ء ہوئی اور مہاراجہ کشمیر نے اُن کو اُن کے علاقے سے جلا وطن کر کے حکم دیا کہ ہمیشہ مہاراجہ کے دربار میں رہا کریں۔وہ بہت خوبصورت آدمی تھے۔ایک دفعہ کسی حادثہ کی وجہ سے اُن کی کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔کسی جراح نے اُسے جوڑا، وہ جڑ تو گئی مگر ذرا ٹیڑھی جڑی۔ایک دن وہ دربار میں بیٹھے تھے کہ مہاراجہ نے دریافت کیا کہ راجہ صاحب سنا ہے آپ کی کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی ؟ انہوں نے کہا ہاں مہا راج ٹوٹ گئی کی تھی مگر اب ٹھیک ہو گئی ہے۔مہاراجہ نے کہا مجھے بھی دکھاؤ اور دیکھ کر کہا کہ یہ جوڑ ٹھیک نہیں بیٹھا آپ بہت خوبصورت آدمی ہیں لیکن اس ٹیڑھی ہڈی نے آپ کے ہاتھ کو بدصورت بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا ہاں مہاراج بات تو ٹھیک ہے مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔مہاراج نے کہا کہ آپ نے ہمیں کیوں نہ اطلاع دی ، ہم سرکاری ڈاکٹر کو بھیج دیتے۔وہ بہت ماہر ہے، ہڈی کو بالکل درست کر کے بٹھاتا اور یہ نقص نہ ہوتا۔یہ سُنی کر راجہ صاحب نے گھٹنا اوپر اُٹھایا اور کلائی کو اُس پر رکھ کر زور جو دیا تو ہڈی تڑاق سے ٹوٹ گئی۔پھر بڑے اطمینان سے مہاراجہ کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا کہ لیجئے مہاراج! اب اپنے ڈاکٹر سے ہڈی کی جڑوا دیجئے۔یہ دیکھ کر راجہ کو تو شش آنے لگا اور تمام دربار میں سناٹا چھا گیا۔اب تم میں سے کون ہے جو اس قسم کا کام کر سکے۔یقینا کوئی نہیں اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ کسی کو ایسے ماحول میں رہنے کا موقع نہیں ملا۔تمہاری نگاہ میں امن کی اتنی قدر ہے کہ کسی چیز کو اس کے مقابل پر کچھ مجھتے ہی نہیں ہو۔لیکن ان لوگوں کے نزدیک جن میں قتل و خونریزی کے واقعات کثرت اور تواتر سے ہوں زندگی کی کوئی قدر ہوتی ہی نہیں۔اُس زمانہ میں بھی سپاہیوں کے نزدیک زندگی کی کوئی زیادہ قیمت نہیں ہوتی۔جنگ عظیم میں شامل ہونے والے کئی سپاہیوں سے میں نے بات چیت کی ہے اور کئی یورپینوں کی کتابیں پڑھی ہیں ، سب یہی بیان کرتے ہیں کہ پہلی گولی جب چلتی ہے تو اُس وقت بہادر سے بہادر آدمی بھی بزدلی محسوس کرتا ہے اور چھپنا چاہتا ہے۔لیکن آدھ یا پون گھنٹہ کے بعد حس ماری جاتی ہے اور خطرہ کا احساس بالکل مٹ جاتا ہے اور بعض لوگ ایسے ایسے خطر ناک مقامات پر اکیلے چلے جاتے ہیں کہ کی دنیا سن کر حیران ہو جاتی ہے کہ ایسے خطرناک مقامات سے گزرے کس طرح اور بچے کس طرح۔گولیاں چاروں طرف سے چل رہی ہوتی ہیں مگر انہیں احساس تک نہیں ہوتا۔لیکن یہ اقرار ہر سپاہی ہے کرتا ہے کہ جب شروع میں اُسے گولیوں کی بوچھاڑ کا سامنا ہوا تھا تو وہ ضرور خوفزدہ ہو گیا تھا۔بڑے بڑے خطاب یافتہ اور انعام یافتہ بلکہ بہادری کا سب سے بڑا انعام یعنی وکٹوریا کر اس حاصل کرنے ،