خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 436

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء ہوتا ہے اور جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو انبیاء کے ذریعہ ہی ظاہر ہوتا ہے۔پس چونکہ خدا تعالیٰ کے نور کا ظہور انبیاء کے ذریعہ ہوتا ہے اس لئے دنیا والوں کی نگاہ میں نبی سورج اور خدا چاند ہوتا ہے۔کیونکہ جب نبی آتا ہے تب ہی خدا کا چہرہ انہیں نظر آنے لگتا ہے۔اس سے پہلے وہ پوشیدہ ہوتا ہے۔پس گو حقیقتا خدا ہی ہے سورج ہے اور بندہ چاند ہے مگر دنیا والے جن کی نگاہیں کمزور ہوتی ہیں اور جو نبی کے ذریعہ خدا کے جلال اور اس کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں ان کے لحاظ سے نبی سورج اور خدا چاند ہوتا ہے۔جیسے سورج کی روشنی جب چاند پر پڑے تب وہ چمکتا ہے نہ پڑے تو چاند تاریک رہتا ہے۔اسی طرح جب تک نبی کا وجود خدا تعالیٰ کو ظاہر نہ کرے وہ مخفی رہتا ہے۔مگر جب نبوت کی روشنی الوہیت پر پڑتی ہے تو خدا کا وجود ہر ایک کو نظر آنے لگ جاتا ہے۔پس دنیا کے حالات کے مطابق تمثیلی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بندہ سورج ہے اور خدا چاند۔یہ بھی ویسی ہی مثال ہے جیسی میں نے رویا میں دی اور اس سے بھی یہی امر ظا ہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی روشنی اور اس کے جلال کو ظاہر کرنے کا ذریعہ انبیاء و خلفاء اور اولیاء وصلحاء ہوتے ہیں۔زمین و آسمان سے خدا کا وجود حق الیقین کے طور پر ثابت نہیں ہو سکتا۔جیسے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر مفصل بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کی کر کے انسان جس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس زمین و آسمان کا کوئی خالق ہونا چاہئے۔مگر یہ کہ وہ ہے اس کا پتہ زمین و آسمان سے نہیں لگتا۔گویا یہ نتیجہ صرف سکنے سے تعلق رکھتا ہے، ہے سے نہیں۔یعنی یہ تو ہو سکتا ہے کہ انسان اس عالم کی صنعتوں پر نظر کر کے صانع کی ضرورت محسوس کرے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ در حقیقت موجود بھی ہے یہ اور بات ہے۔اسی لئے آپ نے بتایا کہ جتنے فلسفی عقلی ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو معلوم کرنا چاہتے ہیں وہ ٹھو کر کھاتے اور بالآخرد ہر یہ بن جاتے ہیں اور زمین و آسمان کی مصنوعات پر غور کرنا انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔کیونکہ اس غور و فکر کا نتیجہ صرف اس حد تک نکلتا ہے کہ خدا کا وجود کی ہونا چاہئے۔یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ خدا کا وجود ہے۔آپ فرماتے ہیں جب وہ زمین کو دیکھتے ہیں تو اسے دیکھ کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔جب وہ آسمان کو دیکھتے ہیں تب بھی وہ یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔مگر یہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ پیدا کرنے والا