خطبات محمود (جلد 18) — Page 424
خطبات محمود ۴۲۴ سال ۱۹۳۷ء میں کہا کہ فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ کے اے موسی جاتو اور تیرا رب دشمنوں سے لڑائی کرو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔جب فتح کر لو گے تو ہم بھی اس ملک میں داخل ہو جائیں گے۔یہ وہ اظہار ایمان ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے حضرت موسیٰ کی زندگی میں ظاہر کیا۔لیکن جب اس قوم کو اس زمانہ کے دیکھنے کا موقع ملا جس کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ نبی کی روح اس کی قوم میں تقسیم کر دی جاتی ہے تو وہی لڑائی سے انکار کرنے والی قوم جس نے موسیٰ جیسے جلیل القدر نبی کے پیچھے لڑنے سے انکار کر دیا تھا، وہ اس کے شاگرد اور ایک نا تجربہ کار نوجوان یوشع کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور تلواریں لے کر اس نے ان دشمنوں کے پرے کے پرے کاٹ دیئے جن سے ڈر کر اس نے موسیٰ کی زندگی میں لڑائی کیلئے نکلنے سے انکار کر دیا تھا۔اس کی یہی وجہ تھی کہ موسیٰ کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ کی سنت کے ماتحت موسیٰ کی روح اب اس قوم میں حلول کر گئی تھی اور وہ ناقص الایمان اب موسوی ایمان کی قوت کے ساتھ دشمن کے مقابلہ پر کھڑے ہو گئے تھے۔اب وہ پہلے سے بنی اسرائیل نہ تھے بلکہ ان میں سے ہر ایک چھوٹا موسیٰ تھا جس کا ایمان خدا کی قدرتوں پر قائم تھا اور جن میں سے ہر ایک کے دل میں بجائے پیچھے بیٹھ رہنے کی خواہش کے اب یہ اُمنگ پیدا ہو رہی تھی کہ میں سب سے پہلے جان دے کر اپنے پیدا کرنے والے کے قدموں میں جارگروں۔دوسری مثال حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی موجود ہے۔ان کے شاگر د جبکہ حضرت مسیح ناصری کو یہودیوں نے پکڑا تو اکثر تو ان میں سے بھاگ گئے اور جو کھڑے رہے ان میں سے سب سے زیادہ جرات دکھانے والا پطرس تھا۔اس نے بھی آخر میں یہودیوں کے سامنے ان کے ڈر اور خوف سے حضرت مسیح کو ماننے سے انکار کر دیا اور آپ پر نَعُوذُ بِاللهِ لعنت کی اور تین دفعہ ایسا ہی کیا۔اور ان جب اس نے تیسری دفعہ ایسا کیا تو ایک مرغ کی اذان کی آواز اس کے کان میں پڑی اور اسے حضرت مسیح کی یہ پیشگوئی یاد آ گئی کہ 'اے پطرس ! میں تجھ سے کہتا ہوں کہ آج مرغ بانگ نہ دے گا جب تک تو کی تین مرتبہ میرا انکار نہ کرئے کے یعنی آج ہی رات تو تین دفعہ مجھ پر لعنت کرے گا۔اس مرغ کی اذان کی آواز نے اس کی آنکھیں کھول دیں اور وہ تو بہ واستغفار میں لگ گیا۔لیکن جو نبی صلیب کا زمانہ گزر گیا اور خدا تعالیٰ کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا کہ ” میں اپنے باپ سے درخواست کروں گا اور ی وہ تمہیں دوسرا تسلی دینے والا بخشے گا کہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے یعنی روح حق جسے دنیا حاصل نہیں