خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 425

خطبات محمود ۴۲۵ سال ۱۹۳۷ء کرسکتی۔کیونکہ اسے نہ دیکھتی ہے اور نہ اسے جانتی ہے لیکن تم اسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہتی ہے اور تم میں ہو وے گی۔میں تمہیں یتیم نہ چھوڑوں گا میں تمہارے پاس آؤں گا۔اب تھوڑی دیر ہے کہ دنیا مجھے پھر نہ دیکھے گی۔پر تم مجھے دیکھتے ہو اور اس لئے کہ میں جیتا ہوں تم بھی جیو گے۔اُس روز تم جانو گے کہ میں باپ میں اور تم مجھ میں اور میں تم میں ہوں“۔تو اس زمانہ کے آتے ہی ان حواریوں کی حالت بدل جاتی ہے۔کمزوریاں دور ہو کر ایمان بڑھ جاتا ہے۔اور وہ پطرس جو حکومت سے نہیں ، حکومت کے حکام سے نہیں ، حکومت کے معمولی سپاہیوں سے نہیں ، بلکہ مغلوب اور محکوم اور مغضوب علیہم چند یہودی افراد سے ڈر گیا تھا اور جس نے اتنی بُزدلی دکھائی کہ اس شخص پر جس کو وہ خدا کا نبی مانتا تھا، اپنی جان کی حفاظت کیلئے اس پر لعنت کرنے سے بھی نہ ہچکچایا، ہم اسے اس موعود زمانہ میں دلیری اور جرات کے ساتھ خود حکومت کے مرکز روم میں یہ کہتے ہوئے صلیب کی طرف بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں کہ میں اس لئے مرتا ہوں کہ تا تم کو زندہ کروں اور جرات کے ساتھ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح وہ بھی صلیب پر لٹک گیا اور مر گیا۔اور اس زمانہ میں اس نے تبلیغ دین کو ترک کرنے کی نسبت صلیب پر جان دینے کو زیادہ آسان سمجھا۔رومی حکومت اپنی ساری طاقت کے باوجود اس کی جادو بھری زبان کو خاموش کرنے سے قاصر رہی۔انہوں نے اس کو صلیب کی دھمکی دی اور سمجھا کہ یہ شاید وہی پطرس ہے جو کچھ عرصہ پہلے یہود سے ڈر کر مسیح پر لعنتیں کر رہا تھا مگر انہیں نہیں معلوم کی تھا کہ حضرت مسیح کے صلیبی واقعہ کے بعد مسیح کی رُوح اب اس کے حواریوں میں تقسیم کر دی گئی تھی۔اب پطرس ، یوحنا اور یعقوب دنیا میں نہیں تھے بلکہ بہت سے چھوٹے مسیح پیدا ہو گئے تھے جن میں سے ہر ایک شخص مسیحی جھنڈے کو اُٹھا رہا تھا۔وہ پطرس ، یعقوب اور تھوما کو ڈرا سکتے تھے مگر مسیح کو ڈرانے کی ان میں کی طاقت نہ تھی۔مسیح صلیب نہیں دیا گیا تھا بلکہ در حقیقت پطرس دیا گیا تھا یعقوب اور یوحنا اور تھو ما صلیب پر دیئے گئے تھے کیونکہ جب مسیح صلیب پر چڑھا تو اُس کے ساتھ تمام وہ کمزوریاں جو اس سے پہلے حواریوں میں پائی جاتی تھیں صلیب پر چڑھ گئیں۔اور اب دنیا میں پطرس نہیں بلکہ مسیح باقی رہ گیا تھا ، یعقوب نہیں بلکہ مسیح باقی رہ گیا تھا۔یوحنا نہیں بلکہ مسیح باقی رہ گیا تھا۔یہ دو مثالیں کتنی واضح ہیں کہ دو جماعتیں اپنے نبیوں کی زندگی میں یا ایک کے متعلق یوں کہو کہ اس کی موجودگی میں کیونکہ مسیح صلیب پر مرا نہیں بلکہ اُس کی ملک کو چھوڑ کر چلا گیا تھا، نہایت کمزور تھیں۔لیکن جب وہ انبیاء ان جماعتوں میں نہیں رہے اور خدا تعالیٰ