خطبات محمود (جلد 18) — Page 42
خطبات محمود ۴۲ سال ۱۹۳۷ء نہیں سوچتے کہ اگر اپنی آدھی عمر وہ رائیگاں گنواتے ہیں تو چوتھائی۔اگر دوسرے نے گنوادی تو اس پر کیا الزام۔جتنا وقت وہ حقہ پینے اور فضول بکو اس میں گزارتے ہیں اتنا اگر کام کرنے اور محنت کرنے میں گزارتے تو تنگدستی نہ ہو۔سیر کو جاتے ہوئے میں نے دیکھا ہے کہ جہاں کوئی اچھا کھیت ہوتا ہے وہ سکھوں کا ہوتا ہے اور جس کھیت کی فصل ناقص ہو وہ مسلمان کی ہوتی ہے۔اور اب لمبے تجربہ کے بعد میں تو ی اچھی فصل کو دیکھ کر کہہ دیا کرتا ہو کہ یہ کسی سکھ کی ہوگی اور خراب فصل کو دیکھ کر کہ دیا کرتا ہوں کہ کسی مسلمان کی ہوگی اور بالعموم یہ قیاس درست نکلتا ہے۔سکھوں کو ایک نمایاں برتری تو یہ حاصل ہے کہ وہ حقہ نہیں پیتے اس لئے ان کا وقت بچ جاتا ہے۔مگر مسلمان زمیندار تھوڑی دیر کام کرتے ہیں اور پھر یہ کہہ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ آؤ کہ پی لیں۔حصہ کی عادت زمینداروں میں اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ ایک دفعہ حضرت کی سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک زمیندار یہاں مہمان آیا۔جب واپس گیا تو دوستوں نے اس سے پوچھا سناؤ کیا دیکھا۔اس نے جواب دیا کہ قادیان سے خدا بچائے ، کوئی بھلا مانس وہاں رہا سکتا ہے؟ وہ بھی کوئی آدمیوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ہمارے دوست ڈر گئے کہ شاید قادیان میں کسی نے اس سے بدسلوکی کی یا مہمان خانہ میں کسی سے اس کی لڑائی ہو گئی ہے۔اس لئے پوچھا کہ بتاؤ تو سہی ہوا کیا وہ سنانے لگا کہ میں یکہ میں دس بجے کے قریب وہاں پہنچا ( اس زمانے میں یہاں ریل گاڑی نہیں تھی)۔سفر کی تھکان تھی ، میں نے خیال کیا کہ آرام سے بیٹھ کر حقہ پئیں۔مگر آگ لینے گیا تو کسی نے کہا کہ حدیث کا درس ہونے لگا ہے۔میں نے کہا نیا نیا آیا ہوں چلو چل کر درس سن لو پھر حقہ پیوں گا۔بارہ بجے وہاں سے واپس آیا تو روٹی کھا کر آگ لینے گیا معلوم ہوا کہ حضرت صاحب نماز کیلئے باہر آنیوالے ہیں اور زیارت کا موقعہ ہے اس لئے چھوڑ کر مسجد کو چلا گیا۔وہاں سے واپس آیا آگ وغیرہ سلگائی حلقہ تیار کیا گیا مگر ابھی دو چار ہی کش لگائے تھے کہ عصر کی نماز کو لوگ لے گئے۔میں نے سوچا واپس آکر آرام سے ہے پیوں گا۔مگر آتے ہی معلوم ہوا کہ مولوی صاحب بڑی مسجد میں قرآن کریم کا درس دیں گے۔اس لئے ادھر جانا پڑا۔واپس آیا تو مغرب کا وقت تھا۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت صاحب بیٹھ گئے اور میں بھی بیٹھا رہا۔وہاں سے آیا تو خیال کیا کہ اب آرام سے حقہ پیوں گا مگر آگ ہی سلگا رہا تھا کہ لوگوں نے کہا عشاء کی اذان ہوگئی ہے ، چلو نماز پڑھو۔غرض سارا دن آرام سے حقہ پینے کا موقعہ نہیں ملا۔اس لئے میں نے تو سویرے اُٹھتے ہی وہاں سے بھاگا اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ جگہ آدمیوں کے رہنے کی نہیں۔اس مثال کے