خطبات محمود (جلد 18) — Page 416
خطبات محمود ۴۱۶ سال ۱۹۳۷ء جماعتوں کے افراد کے جسموں میں بطور مظاہر کے حلول کر دیتا ہے اور وہ روح جو پہلے ایک جسم سے ظاہر ہو رہی تھی آئندہ وہ تمام افراد جماعت کے اندر تقسیم ہو کر اپنی حیات کا ثبوت دیتی رہتی ہے۔ یہ سنت الہیہ ایک ایسا معیار صداقت ہے کہ اس کا انکار الہی سلسلوں کی صداقت کو باطل کر دیتا ہے اور یہ معیار اتنا اہم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اعلان فرمایا ہے کہ وہ تمام تعلیمات کہ جو دنیا میں رائج ہو گئیں اور ان کو مخالفتیں مٹا نہ سکیں وہ ایک یقینی ثبوت ہیں اس امر کا کہ ان کے لانے والے خدا تعالیٰ کے مامور اور مرسل تھے۔ گویا اس قاعدہ کلیہ کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام سلسلوں کو الہی سلسلہ قرار دیا ہے جو دنیا میں خدا تعالیٰ کے نام پر قائم کئے گئے اور مرور زمانہ اُن کو مٹا نہ سکا۔ خواہ ان کے لانے والوں کا نام بھی ہم کو معلوم نہیں اور خواہ ان کے حالات سے ہم گلی طور پر بے خبر ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی قانون کے ماتحت ویدوں کی صداقت کا اعلان فرمایا ہے۔ گو ہمارے پاس کوئی ایسا تاریخی ثبوت موجود نہیں کہ ویدوں کے لانے والے کون تھے اور ان کی زندگیاں کیسی تھیں اور ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کا معاملہ کس رنگ میں ہوا تھا۔ صرف اس بنیاد پر کہ وید خدائی الہام کے قائل ہیں اور اپنے آپ کو اسی سرچشمہ سے قرار دیتے ہیں اور ان کے ماننے والے ہزاروں سالوں سے چلے آتے ہیں اور ان کی تعلیم دنیا میں قائم رہ گئی ہے ، آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ الہی سنت کے ماتحت وہ خدا ہی کی طرف سے تھے اور ان کے لانے والے اللہ تعالیٰ کے مامور اور اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ پس جو شخص بھی اس قاعدہ کورڈ کرتا ہے وہ الہی سنت کورڈ کرتا ہے اور وہ ایک ایسا دروازہ کھولتا ہے کہ جس دروازہ کے کھلنے کے ساتھ کفر و الحاد کا دروازہ د کا دروازه گل شر جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صداقت مشتبہہ ہو جاتی ہے اور اس کا نہ ٹلنے والا قانون بے اعتبار ہو جاتا ہے ۔ اور ہمارے لئے کوئی ایسی راہ کھلی نہیں رہتی جو ہمیں یقینی طور سے خدا تعالیٰ کا وصال اور قرب حاصل کر اسکے اور مشاہدہ کی بنیاد پر ہمارے ایمانوں کو قائم رکھ سکے ۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَحْوِیلا کے اس آیت میں دو قانون بیان کئے گئے ہیں ۔ اول تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی سنت میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور یہ ایک ایسا قاعدہ ہے کہ جس میں کوئی استثناء نہیں ۔ اللہ تو استثناء نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس کے ذریعہ سے چیلنج دیا ہے کہ تم دنیا کی ساری تاریخ کو دیکھ جاؤ تم اللہ تعالیٰ کے ان افعال کو دیکھ جاؤ جو زمانہ کے شروع سے آج تک جاری رہے ہیں تمہیں یہی