خطبات محمود (جلد 18) — Page 411
خطبات محمود ۴۱۱ سال ۱۹۳۷ء اللہ تعالیٰ سورۃ فاتحہ میں اسی شبہ کا ازالہ کرتا اور فرماتا ہے جب تمہیں کوئی انعام نہیں ملتا تو تم کیوں یہ نہیں سمجھتے کہ تمہارے لئے یہ انعام مقدر نہیں تھا تمہارے لئے کوئی اور نعمت ہوگی جو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے وقت تمہیں دے دے گا۔پس تم جب خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو تو تم اس طرح دعا کرو کہ کی الہی ! جو نعمت ہمارے لئے مقدر ہے وہ ہمیں دے۔تب خدا تمہاراحق تمہیں دے گا اور اس میں تمہارے لئے برکت رکھ دے گا۔لیکن اگر تم خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت پر قانع نہیں ہو گے اور دوسرے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاؤ گے تو خدا تم سے اپنی پہلی نعمت بھی چھین لے گا۔کیونکہ جو شخص اُس کی دی ہوئی نعمت پر راضی نہیں ہوتا وہ مغضوب ہے۔اس کی مثال قرآن کریم میں ایک اور مقام پر موجود ہے۔اللہ تعالی عیسائیوں کی اور یہودیوں کے متعلق فرماتا ہے کہ اگر یہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لے آئیں تو ان کیلئے یہ مقدر ہے کہ آسمان سے بھی ان پر نعمتیں اُتریں گی اور زمینی نعمتیں بھی انہیں عطا کی جائیں گی۔یہود نے یہ سنا تو انہوں نے کہا ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی نبی آئے۔اللہ تعالیٰ نے کہا یہ تو ہو نہیں سکتا لیکن اس کی گستاخی کی سزا میں جو ہم نے تمہیں دینے کا وعدہ کیا تھا وہ بھی ہم اب واپس لیتے ہیں۔تو ہر متقی انسان کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے انعام مقرر ہے۔ورنہ یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ انسان دن رات میں پانچ نمازوں میں اس کے حضور کھڑا ہو اور اُس سے انعام طلب کرے مگر وہ کوئی انعام نہ دے۔بچپن میں ہم پڑھا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک لڑکے نے روٹی کا ٹکڑہ اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک کتے کو پچکار کر اپنے پاس بلایا۔کتے نے یہ سمجھا کہ یہ مجھے روٹی کا ٹکڑا کھلانے لگا ہے وہ دُم ہلاتے ہوئے اس کے پاس چلا گیا مگر جو نہی کتا اس لڑکے کے قریب پہنچا اس نے ایک ڈنڈا نکال کر جو اس نے پیٹھ کے پیچھے چھپایا ہوا تھا زور سے اس کے منہ پر مارا اور وہ چوں چوں کرتا ہوا بھاگ گیا۔یہ نظارہ ایک شخص اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے دیکھ رہا تھا۔اسے یہ بات بہت ہی بُری معلوم ہوئی اور اس نے اس لڑکے بق سکھانے کیلئے ایک روپیہ اپنی جیب سے نکالا اور کہا کہ میاں بچے یہ روپیہ لے لو۔وہ دوڑا دوڑا اس کے پاس گیا۔مگر جو نبی اس نے روپیہ پر ہاتھ ڈالا اس شخص نے زور سے ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔وہ لڑکا شور مچانے لگ گیا کہ میرے ساتھ دھوکا اور فریب کیا گیا ہے۔مجھے روپیہ دینے کیلئے بلایا گیا مگر جب میں پاس پہنچ تو مجھے تھپڑ کھینچ مارا۔وہ شخص کہنے لگا تو نے کتے سے کیوں دھوکا کیا تھا اور کیا تجھے شرم نہ آئی تھی کہ تو نے اسے روٹی کا ٹکڑا دکھا کر بلا یا مگر جب وہ تمہارے پاس آیا تو تم نے اس کے منہ پر زور سے