خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 410

خطبات محمود ۴۱۰ سال ۱۹۳۷ء دیئے اور اس طرح تمام انبیاء کے کمالات کا آپ کو جامع ٹھہرایا۔اور ایسا انسان جسے تمام انبیاء کے نام دے دیئے جائیں اگر پہلے تمام انبیاء سے بڑا نہیں تو سب کے برابر تو ضرور ہوگا۔صلى الله الله غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دنیا کو یہ بتا دیا کہ جو رستہ رسول کریم کی کے ذریعہ روکا گیا تھا وہ آپ کی شاگردی میں ایک اور رنگ میں کھول دیا گیا ہے۔اور اس طرح کی اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کا وصال اسی طرح انسان کو حاصل ہو سکتا ہے جیسے پہلے حاصل ہوا کرتا تھا۔بلکہ ان رسول کریم ﷺ کی غلامی کی وجہ سے پہلوں سے بھی زیادہ کمالات انسان حاصل کر سکتا ہے۔لیکن وہ ان انسان جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا وہ بجائے اللہ تعالیٰ کے قرب کیلئے جد و جہد کرنے کے دوسرے کو گرانے کی کوشش کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی ترقی میں اگر کوئی روک ہے تو وہی جسے اس وقت عزت حاصل ہے۔چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر جب باغیوں نے حملہ کیا تو آپ نے انہیں یہی کہا کہ میرا قصور سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ میرا دور خلافت ذرا لمبا ہو گیا ہے اور تمہارے دلوں میں یہ خیال پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کہ یہ کہیں مرتا بھی نہیں کہ اس کی جگہ کوئی اور لے اور ہم اس کی وجہ سے انعام سے محروم ہوتے جار ہے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے دروازے انسان کیلئے ہر وقت گھلے ہیں اور کوئی خلیفہ اس کے میں روک نہیں بن سکتا۔یہی وہ امر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ } اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں بتایا اور مومنوں کو سمجھایا کہ ہمارے قرب کا کوئی دروازہ بند نہیں۔اگر بظاہر تمہیں یہ نظر آتا ہو کہ کوئی دروازہ بند ہو گیا تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ کوئی اور دروازہ خدا تعالیٰ نے کھول بھی رکھا ہوا ہوگا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے کوئی دروازہ اس وقت تک بند نہیں کرنا جب تک ایک اور دروازہ لوگوں کیلئے کھول نہ دے۔پھر دوسرا ابتلا لوگوں کو اس لئے آتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں فلاں نعمت فلاں کو کیوں ملی ہمیں کیوں نہیں ملی۔حالانکہ دنیوی رہتے تو جس قدر ہیں وہ محدود ہی ہوں گے۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ہر ایک کو کوئی نہ کوئی عہدہ دے دیا جائے۔اگر کوئی ملازمت ہو تو خواہ وہ صدر انجمن احمد یہ دے یا میں دوں بہر حال محدودا فراد کیلئے ہی ہوگی۔لیکن اگر ہیں آدمی آئیں اور ان میں سے ایک کو میں رکھ لوں اور اُنہیں کہیں کہ چونکہ ہمیں یہ جگہ نہیں دی گئی اس لئے ہمیں اعتراض پیدا ہو گیا ہے تو اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں۔کیونکہ محدود ملازمتیں محدود افراد کو ہی دی جاسکتی ہیں ہر ایک کو کس طرح دی جاسکتی ہے۔