خطبات محمود (جلد 18) — Page 409
خطبات محمود ۴۰۹ سال ۱۹۳۷ء پلا دے۔داؤدی صفات ہمارے اندر پائی جاتی ہیں تو داؤدی جام پلا دے۔سلیمانی صفات پائی جاتی ہیں تو سلیمان کا جام پلا دے اور اگر عیسی کی پھانسی ہمارے لئے مقدر ہے تو وہی پھانسی ہمیں دلا دے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو پھانسی کی سزا کا ملنا گوڈ نیوی نقطہ نگاہ میں معیوب امر تھا مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا سے تعلق رکھنے والوں کیلئے اسی پھانسی میں عزت ہے اور ان کی نگاہ میں یہ سزا نہیں بلکہ عزت ہے۔یا ممکن ہے خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے ابراہیمی ہجرت مقدر کی ہو اور تم اس سے سلیمانی انعام ما نگتے رہو ، وہ تمہیں سلیمانی جام پلانا چاہتا ہو اور تم ابرا ہیمی ہجرت کے طلبگار ہو۔وہ غرض اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ تم کسی کو انعام ملنے پر حسد اور لالچ مت کیا کرو۔کیونکہ ممکن ہے تم اس انعام کے اہل ہی نہ ہو۔یا ممکن ہے تمہارے لئے کوئی اور انعام مقدر ہو اور تمہارا رونا پیٹنا محض بے ایمانی اور نفاق کی علامت ہو۔اگر کوئی انسان اس نکتہ کو نہیں سمجھتا اور وہ خدا تعالیٰ سے معتین طور پر کوئی ایسا انعام مانگتا ہے جس کا وہ اہل نہیں تو اگر وہ کمزور ایمان والا ہوگا تو فرشتے اس کا کان پکڑ کر الہی دربار سے نکال دیں گے۔اور کہیں گے گستاخ تو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں شوخی سے کام لیتا ہے۔اور اگر وہ ایسا کامل انسان ہے کہ ارتداد اس کیلئے مقدر نہیں تو کم از کم اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا انعام بہت کم ہو جائے گا۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسی جامع دعا سکھائی ہے کہ جس کے مطلب کو سمجھ کر انسان کفر اور نفاق۔بیچ سکتا ہے اور بنی نوع انسان کو یہ ہدایت کی ہے کہ تم کبھی یہ خیال نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔یا فلاں کو جو مقام حاصل ہو ا تو اس کا اہل وہ نہ تھا تم تھے۔خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے اور اگر یہ نظر آتا ہو کہ بظاہر ایک دروازہ بند ہو گیا تو خدا تعالیٰ معاً اس کی کے ساتھ ایک اور دروازہ کھول دیتا ہے۔جیسے محمد ﷺ کو خدا تعالیٰ نے خاتم النبین بنایا اور آپ پر تمام شرائع کو ختم کر دیا اور براہِ راست نبوت حاصل کرنے کا دروازہ مسدود قرار دے دیا تو بظاہر یہ نظر آتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے ایک دروازہ کو بند کر دیا مگر خدا نے فوراً ایک اور قسم کے انعام کا دروازہ کھول دیا جو پہلے سے کسی صورت میں کم نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے بتادیا کہ رسول کریم ﷺ کی اتباع میں بھی انسان کو ایسا بلند مقام حاصل ہوسکتا ہے کہ انسان نے حضرت عیسی علیہ السلام سے بھی درجہ میں بڑھ سکتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے آپ کو سارے انبیاء کے نام