خطبات محمود (جلد 18) — Page 398
خطبات محمود ۳۹۸ سال ۱۹۳۷ء اسی طرح کبھی ٹھو کر اس وجہ سے لگتی ہے کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ فلاں انعام کا مستحق میں تھا دوسرے کو کیوں مل گیا۔جب انسان کے اندر اس قسم کا خیال پیدا ہوتا ہے تو وہ بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے۔حالانکہ اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ میرے لئے خدا تعالیٰ نے کوئی اور انعام مقرر کیا ہوگا یا اس انعام کا نہ ملنا ہی میرے لئے مفید اور بابرکت تھا۔مثنوی رومی میں ایک حکایت آتی ہے۔لکھا ہے ایک سپیرا تھا جسے ایک دفعہ کوئی نئی قسم کا سانپ ملا۔وہ اسے پکڑ کر بہت ہی خوش ہوا اور چونکہ سپیروں کی کمائی کا دارو مدار سانیوں پر ہی ہوتا ہے اس لئے وہ خیال کرنے لگا کہ میں اب اس سانپ کے ذریعہ لوگوں سے بہت کچھ روپیہ کما سکوں گا۔اتفاقا رات کو کی جس گھڑے میں اُس نے سانپ رکھا تھا اُس پر ڈھکنا دینا وہ بھول گیا اور سانپ نکل گیا یا وہ سانپ زیادہ طاقتور تھا کہ ڈھکنے کے باوجود گھڑے میں سے نکل گیا۔اتفاقاً اس کا ایک دوست اسے ملنے آیا اور اس نے ی خوشی سے ناچنا شروع کر دیا کہ مجھے ایک نئی قسم کا سانپ ملا ہے ، آؤ میں تمہیں دکھاؤں۔جب وہ سانپ اسے دکھانے کیلئے گھڑے کی طرف گیا تو اس نے دیکھا کہ گھڑا خالی ہے اور سانپ اس میں موجود نہیں۔یہ دیکھ کر اسے بہت ہی صدمہ ہوا اور وہ ساری رات دعائیں مانگتا رہا کہ یا اللہ ! میرا سانپ مجھے ملا جائے۔تھوڑی دیر دعا کرنے کے بعد وہ اُٹھتا اور مکان کے کونوں میں تلاش کرتا اور دیکھتا کہ سانپ آیا ہے یا نہیں۔جب اسے معلوم ہوتا کہ سانپ نہیں آیا تو پھر خدا کے حضور جھک جاتا اور کہتا یا اللہ ! میرا سانپ مجھے مل جائے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر اُٹھتا اور کونوں میں تلاش کرنا شروع کر دیتا اور جب نہ ملتا تو پھر دعائیں مانگنے لگ جاتا۔آخر اسی طرح ساری رات اس نے دعا کرتے کرتے گزار دی۔جب صبح ہوئی تو اس کے دل میں خیال آیا کہ میری تو ساری رات کی دعائیں ضائع گئیں اور میر اسانپ مجھے نہ ملا۔اس کے دل میں ابھی یہ خیال گزرا ہی تھا کہ اُس کا ایک ہمسایہ اُسے بلانے آیا۔جب وہ اس کے گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ تمام برادری اکٹھی ہے۔اسے دیکھ کر وہ کہنے لگے رات کو اس گھر والے کو ایک نئی قسم کا سانپ ملا تھا۔اس نے اسے پکڑ لیا لیکن اس نے اسے کاٹ لیا اور چونکہ اس زہر کا تریاق ہماری قوم کے پاس موجود نہیں باوجود ہر قسم کے علاج کے وہ مر گیا۔اس لئے ساری برادری کو بلا یا گیا کہ اس سانپ کو دیکھ لیں تا آئندہ اس سے ہوشیار رہیں۔اس شخص نے جب سانپ کو دیکھا تو وہ وہی سانپ تھا جس کے ملنے کے متعلق وہ ساری رات دعائیں مانگتا رہا تھا۔یہ دیکھ کر وہ پھر سجدہ میں گر گیا اور کہنے لگا خدایا ! یہ