خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 392

خطبات محمود ۳۹۲ سال ۱۹۳۷ء بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ ہے تو علماء حقیقی وہی ہیں جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو مگر ان علماء میں سے بھی وہ لوگ جو اس مقام پر نہیں پہنچے ہوئے ہوتے جس مقام پر پہنچ کر خدا تعالیٰ انہیں اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ کے خطاب سے مخاطب کرتا ہے، بعض دفعہ ٹھوکر کھا جاتے اور پھر ایسے ذلیل ہو جاتے ہیں کہ ان کی ذلت کی کوئی انتہاء نہیں رہتی جیسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تھے ۔ شروع شروع میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اتنی تعریف کی اتنی تعریف کی کہ اسے دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے ایک پُر جوش مرید آپ کی تعریف کر رہا ہے ۔ چنا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ پر انہوں نے جور یو یو کیا اس میں لکھا کہ رسول کریم ہے کے بعد تیرہ سو سال کے عرصہ میں کسی ایک شخص نے بھی اپنے قول اور عمل سے اسلام کی اتنی خدمت نہیں کی جتنی حضرت مرزا صاحب نے کی ہے۔ مگر پھر وہی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تھے جنہوں نے آپ پر کفر کا فتو ی لگایا اور تمام ہندوستان میں آپ کی مخالفت کی آگ بھڑکائی ۔ محض اس لئے کہ میری ہتک ہوئی ہے، مجھ سے اپنے دعوئی کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے مشورہ کیوں نہیں کیا۔ اور دراصل پہلا غصہ انہیں آپ پر یہی تھا۔ چنانچہ جب کسی شخص نے انہیں بتایا کہ آپ ایک ایسی کتاب لکھ رہے ہیں جس میں وفات مسیح کا ذکر آتا ہے ۔ تو مولوی محمد حسین بٹالوی کہنے لگے کہ ہم سے تو انہوں نے کوئی ذکر نہیں کیا۔ پھر اسی غصہ میں وہ سارے ہندوستان میں پھرے اور آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا اور کہا کہ میں نے ہی ں شخص کو اونچا کیا تھا اور اب میں ہی اسے نیچے گراؤں گا۔ کے مگر نتیجہ کیا نکلا؟ انہوں نے اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ آپ کا مقابلہ کیا ۔ تھوڑے دنوں کے لئے ہاؤ ہو کا شور بھی مچالیا ، آپ کو گالیاں بھی دی گئیں ، آپ کو بُرا بھلا بھی کہا گیا ۔ آپ کے خلاف لوگوں کو مشتعل بھی کیا گیا مگر آخر فتح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہی حاصل ہوئی ۔ اس مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ ملتان کسی مقدمہ میں گواہی دینے کیلئے تشریف لے گئے ۔ میں نے اُس وقت خواہش کی کہ میں بھی آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہوں ۔ چنانچہ آپ مجھے اپنے ساتھ لے گئے ۔ میری عمر اس وقت اتنی چھوٹی تھی کہ مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے ملتان میں کیا کیا دیکھا ۔ جب ہم واپس آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور میں بھی ایک دو دن ٹھہرے۔ اُنہی دنوں کسی دوست نے شہر کے اندر آپ کی دعوت کی ۔ مجھے یہ یاد نہیں کہ وہ کھانے کی دعوت تھی یا اُس