خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 391

خطبات محمود ۳۹۱ سال ۱۹۳۷ء کریں۔وہ آدمی بھی گو بظا ہر دُنیوی علماء میں شامل تھا مگر اُس کے دل میں تقویٰ کی آگ جلتی تھی۔جب انہوں نے کہا کہ اگر نیت بخیر باشد تو اُس نے سوال کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس وقت تو میں بحث کی نیت سے ہی آیا تھا۔اور در حقیقت یہ جو اُس شخص میں تقویٰ پیدا ہو ا مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی بات کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ایک واقعہ ہے۔شروع شروع میں مولوی محمد حسین صاحب جب مولوی ہو کر بٹالہ آئے تو ان کے خیالات بٹالہ کے رہنے والوں کو سخت گراں گزرے۔آپ فرماتے کہ ایک دفعہ جب میں بٹالہ گیا تو چونکہ لوگوں کو میرے مذہبی جوش اور مذہبی تحقیق و تدقیق کا علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ عیسائیوں کے متعلق میں اکثر مضامین لکھتا رہتا ہوں اور صوفیاء کی میرے دل میں کی عزت ہے اس لئے بعض لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے آپ سے ایک ضروری کام ہے، آپ ہمارے ساتھ فلاں مسجد میں چلیں۔جب میں وہاں گیا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بیٹھے تھے اور لوگوں کا بہت بڑا مجمع تھا۔لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ حنفیوں کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے بحث کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم حنفیوں کی طرف ہیں کیونکہ حنفیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اول قرآن ہے اور پھر حدیث اور ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔جب لوگوں کی نے آپ کو مولوی محمد حسین صاحب سے بحث کرنے کیلئے آمادہ کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا مجھے ان کے مذہب کا پتہ نہیں ، پہلے یہ اپنا عقیدہ بیان کریں اس کے بعد میں ان پر کوئی اعتراض کر سکتا ہوں۔مولوی نان محمد حسین صاحب بٹالوی نے بیان کیا کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی طرف سے جو قول ثابت ہو جائے وہ ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی یہی عقیدہ تھا اور ہمارا بھی یہی ج عقیدہ ہے۔کیونکہ اگر رسول کریم ﷺ کی بات نہیں ماننی تو اور کس کی ماننی ہے؟ بہر حال جب آپ نے کی مولوی محمد حسین بٹالوی کی یہ بات سنی تو فرمایا یہ بالکل ٹھیک ہے ، میں اعتراض کس بات پر کروں۔یہ سنتے ہی ہی لوگ سخت غضب میں آگئے اور انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ہار گئے ، ہار گئے۔بس یونہی عالم بنے پھرتے تھے، ہمیں اب پتہ لگا کہ یہ عالم نہیں جاہل ہیں۔آپ نے لوگوں کی ان تمام باتوں کو سُنا مگر کوئی پرواہ نہ کی اور وہاں سے چلے آئے۔واپسی کے وقت خدا تعالیٰ نے آپ پر الہام نازل کیا کہ چونکہ تو نے میری خاطر یہ ذلت برداشت کی ہے اس لئے ” تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے