خطبات محمود (جلد 18) — Page 372
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کیلئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو گلی طور پر ی خدا کی تدبیر کے ماتحت کر دیں۔مگر وہ مُردہ نہیں ہوتے ان کے اندر جوش اور اخلاص ہوتا ہے۔وہ قربانی کیلئے تیار رہتے ہیں مگر قربانی کرنے کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف دیکھتے ہیں۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے اذن ہو اور جس رنگ میں ہو وہ اُسی وقت اور اُسی رنگ میں قربانی کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی فوقیت کی ور عظمت کی بڑی علامت فرمانبرداری اور اطاعت کا ایسا نمونہ ہی ہوتا ہے جو دوسری قوموں میں نظر نہیں آتا۔جو چیز دوسروں کی نگاہ میں ذلت ہو وہ ان کی نگاہ میں عزت ہوتی ہے۔جو دوسروں کو عزت نظر آئے وہ اسے ذلت سمجھتے ہیں۔لوگ عزت اس میں سمجھتے ہیں کہ اپنے نفس کا غصہ نکال لیں اور مومن اس میں کہ خدا تعالیٰ کا حکم پورا ہو، نفس کا غصہ بے شک نہ نکلے۔جب کوئی شخص ایسا ہو جائے تو اس کیلئے اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتے نازل کرتا ہے جو اُس کی مدد کرتے ہیں اور یہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔تم سوچو تو سہی کیا ہماری اتنی طاقت ہے کہ ساری دنیا کو فتح کر سکیں۔ہمیں تو جو کامیابی ہوگی فرشتوں کے ذریعہ سے ہوگی اور یہ اُسی وقت ہوتا ہے جب مومن اپنے نفسوں پر قابو رکھیں اور دل میں اس کیلئے بالکل تیار رہیں کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی اپنے نفسوں کو قربان کر دیں گے مگر اپنے ہاتھوں اور زبانوں کو قابو میں رکھیں گے اور کوئی بات ایسی نہ کریں گے جو خلاف شریعت اور خلاف آداب ہو۔شریعت وہ ہے جو قرآن کریم میں بیان ہے اور آداب وہ ہیں جو خلفاء کی زبان سے نکلیں۔پس ضروری ہے کہ آپ لوگ ایک طرف تو شریعت کا احترام قائم کریں اور دوسری طرف خلفاء کا ادب واحترام قائم کریں اور یہی چیز ہے جو مومنوں کو کامیاب کرتی ہے۔تمہارے دل پتھر کے ہوں گے اگر وہ ان معجزات سے متاثر نہیں ہوتے جو خدا تعالیٰ نے گزشتہ پچاس سال میں جماعت کیلئے ظاہر کئے ہیں۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر وہ نشانات جمادات پر ظاہر ہوں تو کی درختوں پر اور پتھروں پر اور لوہے پر اور لکڑی پر بھی ان کا اثر ضرور ہو اور تم تو انسان ہو۔غور تو کرو تم نے کتنے نشان دیکھے ہیں اور کتنی وحیوں ، کشوف اور الہامات کو پورا ہوتے دیکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ، آپ کے خلفاء اور پھر اپنے نفسوں کے ذریعہ تم میں سے بہت ہی کم ہوں گے جنہیں خدا تعالیٰ نے کبھی کوئی سچا خواب نہ دکھایا ہو اور پھر وہ پورا نہ ہوا ہو۔تم تو زمین پر اللہ تعالیٰ کا چلتا پھرتا ہے نشان ہو۔دنیا کو تم انسان نظر آتے ہو مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں تم خدا کا ہاتھ ہو جو دنیا کی طرف بڑھایا گیا۔تم