خطبات محمود (جلد 18) — Page 371
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء کر لیں کہ اپنے ایک بھائی کو سخت مصیبت کی حالت میں دیکھا مگر کچھ نہ کر سکے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بے شک مجھے رویا ہوئی تھی مگر کیا میں نے کہا تھا کہ اس سال ہم عمرہ کریں گے؟ میں نے صرف قیاس کیا تھا اور اسی قیاس کی بناء پر آیا اور تم کو معلوم ہے کہ یہ بات شرائط میں ہے کہ ہم اگلے سال عمرہ کریں گے اور خواب پورا ہو گا۔پھر اس میں ذلت کی کوئی بات نہیں کہ جو مسلمان ہو اُسے واپس کیا جائے اور جو کافر ہوا سے اپنے ہم مذہبوں کے پاس جانے دیا جائے۔جس مسلمان کو کفار پکڑ کر رکھیں گے وہ تبلیغ ہی کرے گا اور جو مسلمان مرتد ہو جائے تم بتاؤ ہم نے اُسے رکھ کر کرنا ہی کیا ہے۔اس پر حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے۔ان کا جوش کم ہوا انگر پوری طرح فرو نہیں ہوا۔اور پھر وہ اس شخص کے پاس پہنچے جسے اللہ تعالیٰ نے صدیق کہا ہے اور جس کی نبض محمد رسول اللہ ﷺ کی نبض کے تابع چلتی تھی اور کہا ابو بکر ؟ کیا محمد خدا کے رسول ہیں؟ کیا ہمارا دین سچا ہے؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے خواب نہیں دیکھا تھا کہ ہم عمرہ کر رہے ہیں، پھر ہوا کیا ؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا عمر! کیا محمد مصطفی ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم ضرور اسی سال عمرہ کریں گے؟ خواب صرف یہی ہے کہ ہم عمرہ کریں گے سوضرور کریں گے۔تب حضرت عمرؓ کا دل صاف ہوا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ صداقت جس طرح رسول کریم ﷺ کی زبان سے نکلی اُسی طرح ابوبکر کی زبان سے بھی نکلی۔تو صلح حدیبیہ بڑا بھاری امتحان تھا، بڑی آزمائش تھی مگر صحابہ نے انتہائی اطاعت کا نمونہ دکھایا۔مومن کو بعض دفعہ ایسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم انتہائی طور پر ذلیل کئے جارہے ہیں۔پہلوں سے بھی ایسا ہوا اور ضروری ہے کہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو محمد ہے، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی غرضیکہ سب انبیاء کی جماعتوں سے ایسا ہوا۔حضرت عیسی کی صلیب کا واقعہ کچھ کم نہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام ہمیشہ یہ وعظ کیا کرتے تھے کہ اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلوار میں خرید و۔مگر جب حکومت نے آپ کو پکڑا تو پطرس جوش میں آیا اور اُس نے لڑنا چاہا مگر حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا پطرس جوش میں مت آ اور خاموش رہ۔چنانچہ انجیل میں آتا ہے پطرس نے تلوار جو اس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کاہن کے نوکر پر چلا کر اُس کا داہنا کان اُڑا دیا۔یسوع نے پطرس سے کہا تلوار کو میان میں رکھ۔جو پیالہ باپ نے مجھ کو دیا کیا میں اسے نہ پیوں کے حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بھی کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ ان کی قوم جوش میں لڑنا چاہتی مگر وہ حکم دیتے کہ ٹھہر جاؤ۔