خطبات محمود (جلد 18) — Page 370
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء ہے اور اب خواہ ہمارے دلوں کو کتنی تکلیف ہو، اسے پورا کریں گے اور آپ نے کفار کے نمائندہ سے فرمایا کہ اسے لے جاؤ۔جب اس شخص نے دیکھا کہ مجھے واپس کیا جارہا ہے تو اس نے پھر نہایت متر جمانہ نگاہوں کے ساتھ صحابہ کی طرف دیکھا اور کہا تم جانتے ہو مجھے کس طرف دھکیلتے ہو؟ تم مجھے ظالم لوگوں کے قبضہ میں دے رہے ہو؟ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی کو تاب نہ تھی کہ آنکھ اُٹھا سکے اس لئے خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے ہے لیکن صحابہ کو اس کا رنج اتنا تھا، اتنا تھا کہ جب صلح نامہ پر دستخط ہو چکے تو رسول کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ اس سال ہمیں عمرہ کا موقع نصیب نہ ہو۔جاؤ اور اپنی قربانیوں کو ذبح کر دو۔آپ نے یہ فرمایا اور وہ صحابہ جو آپ کے ایک اشارے پر اُٹھ کھڑے ہوتے اور نہایت بے تابی کے ساتھ فرمانبرداری کا اعلیٰ نمونہ دکھانے کی کوشش کرتے تھے ، ان میں سے ایک بھی نہ اُٹھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ اُمہات المومنین میں سے ایک بی بی تھیں۔آپ نے ان سے کہا کہ آج میں نے وہ نظارہ دیکھا ہے جو نبوت کے ایام میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں نے باہر جا کر صحابہ سے کہا کہ اپنی قربانیاں ذبح کر دو مگر ان میں سے ایک بھی نہیں اُٹھا۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ کسی سے بات ہی نہ کریں۔آپ سیدھے جا کر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کر دیں۔یہ زجر زبان کی زجر سے بہت سخت تھی اور یہ مشورہ کی نہایت ہی اچھا تھا۔چنانچہ آپ باہر آئے ، نیزہ لیا اور بغیر کسی مدد کے اپنے جانور ذبح کرنے شروع کی کر دئیے۔جو نہی صحابہ نے یہ دیکھا معا انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ دوڑے، بعض رسول کریم کی مدد کیلئے اور بعض اپنی قربانیوں کی طرف۔اور ان کی بے تابی اس قدر بڑھ گئی کہ وہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کیلئے تلواروں کی نوکوں سے ایک دوسرے کو ہٹاتے تھے۔لیکن گو انہوں نے یہ فرمانبرداری دکھائی اور ان کا جوش بھی ٹھنڈا ہوا مگر پوری طرح نہیں ہوا۔حضرت عمرؓ جیسا مخلص انسان بھی اپنے جوش کو نہ دبا سکا۔آپ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں جا کر بیٹھ گئے اور عرض کیا کہ يَارَسُوْلَ اللہ ! کیا آپ خدا کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم خدا کی کچی جماعت نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہیں۔حضرت عمر نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! آپ کو ایک رؤیا ہوئی تھی کہ ہم مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ صحیح ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یہ نا کا می پھر کس بات کا ی نتیجہ ہے؟ ہم ایمان پر ہوتے ہوئے دب گئے اور کفار کا پہلو بھاری رہا اور ہم نے ایسی ایسی شرطیں منظور