خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 358

خطبات محمود ۳۵۸ سال ۱۹۳۷ء صلى الله بات کا شوق ہے کہ مختلف مذاہب کے جو بانی ہیں ان کے حالات زندگی معلوم کروں ۔ اس وجہ سے مختلف مذاہب کے واعظ جب ہمارے شہر میں آتے ہیں تو میں ان کے وعظوں اور تقریروں میں شامل ہوتا ہے ۔ جب کوئی بڑا مولوی آجاتا ہے اور لیکچر دیتا ہے تو میں اس کے لیکچر میں بھی شامل ہو جاتا ہوں اور جب کوئی عیسائی پادری آجاتا ہے تو اس کا وعظ سننے کیلئے بھی چلا جاتا ہوں اور جب کوئی ہندو پنڈت آتا ہے تو اس کی تقریر میں بھی چلا جاتا ہوں ۔ مسلمان واعظوں میں سے مجھے ان کی تقریر کا زیادہ شوق رہتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی سنائیں کیونکہ یہ ایک تاریخی مضمون ہے ۔ اور ایک غیر مذہب والے کو مذہبی مضمون سے تاریخی مضمون سے زیادہ دلچسپی ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک بات میری سمجھ میں کبھی نہیں آئی اور وہ یہ کہ عیسائی پادری جب وعظ کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ یہ بیان کرتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے محبت کی تعلیم دی اور انہوں نے لوگوں کیلئے اپنی جان قربان کر دی ۔ ایک ہندو پنڈت کھڑا ہوتا ہے تو وہ بھی حضرت کرشن جی کے فضائل بیان کرتا اور کہتا ہے کہ انہوں نے دنیا سے جھگڑا اور فساد دور کیا ۔ حضرت رام چندر کے متعلق کہتا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو یہ یہ سکھ پہنچایا۔ ایک سکھ گیانی آتا ہے تو وہ بھی اپنے گرو کی خوبیاں لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے مگر جب کوئی مسلمان مولوی آتا ہے اور محمد ﷺ کے فضائل بیان کرنے لگتا ہے تو یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ اوکالی کملی والے اور لفاں والے ! اوکالی کملی والے اورزلفاں والے ! ۔ میں اس کی یہ بات سن کر شرم اور ندامت سے پسینہ پسینہ ہو گیا اور میں نے اُسے کہا یہ مسلمان رسول کریم ﷺ کے فضائل سے ناواف ، نا واقف ہیں۔ اگر یہ لوگ قرآن کریم پڑھیں اور اور احادیث اء سے واقفیت رکھیں تو انہیں معلوم ہو کہ رسول کریم ﷺ کے اخلاق کو کس اعلیٰ رنگ میں بیان کیا گیا ہے ۔ مگر چونکہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے محاسن پر کبھی غور نہیں کیا اس لئے یہ بڑی سے بڑی خوبی اور بڑے سے بڑا کمال صلى الله عروسه الله صلى الله جو آپ کا بیان کریں گے وہ یہی ہوگا ہ یہی ہوگا کہ اوکالی کملی وا۔ ملی والے اوزلفاں والے ۔ غرض یہ لوگ جو رسول کریم کی تعریف کرتے ہیں اس میں ہر شخص شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کالی کملی رسول کریم ﷺ کی صلى الله عروسه صلى الله صلى الله صلى الله فضیلت کا معیار کبھی ، نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان فقیروں نے کالی کملی اوڑھ لی اور سمجھ لیہ لیا کہ رسول کریم ہے کے تمام کمالات انہیں حاصل ہو گئے ۔ پھر انہوں نے رسول کریم ﷺ میں ایک اور حسن یہ دیکھا کہ آپ کی زلفیں لمبی تھیں یہ دیکھ کر مسلمان فقیروں نے بھی اپنے بال بڑھا لئے اور سمجھ لیا کہ رسول کریم ﷺ کی اتباع ہوئی اور اور ہم آپ کے مثیل بن گئے ۔ مگر ایک احمدی جب رسول کریم ﷺ کے اخلاق کو پیش کرے گا تو وہ الله صلى الله