خطبات محمود (جلد 18) — Page 349
خطبات محمود ۳۴۹ سال ۱۹۳۷ء صلى الله رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اسلام کو جو فتوحات حاصل ہوئیں اس سے بہت زیادہ فتوحات تھیں جو ان حضرت ابو بکر کے زمانہ میں اسلام کو حاصل ہوئیں اور پھر حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسلام کو جو فتوحات حاصل ہوئیں وہ اس سے بہت زیادہ تھیں جو حضرت ابو بکر کے زمانہ میں اسلام کو حاصل ہوئیں۔مگر باوجود ملک کے دائرہ کی وسعت کے اور باوجود اُن افراد کی کثرت کے جن پر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے حکومت کی کیا کوئی احمق کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رسول کریم ہے سے بڑے تھے پس با وجود اس کے کہ حضرت ابو بکر کی حکومت اس سے بہت زیادہ علاقہ پر تھی جتنے علاقہ پر رسول کریم کی حکومت تھی اور باوجود اس کے کہ حضرت ابو بکر کو ان سے بہت زیادہ افراد پر حکومت حاصل تھی جتنے افراد پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکومت حاصل تھی۔اسی طرح با وجود اس کے کہ حضرت عمرؓ کو اس سے بہت زیادہ علاقہ اور بہت زیادہ افراد پر حکومت حاصل تھی جتنے علاقہ یا جس قدر افراد پر رسول کی کریم ﷺ یا حضرت ابو بکر نے حکومت کی۔پھر بھی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ رسول کریم ﷺ سے بڑے تھے۔اسی لئے کہ ابوبکر ، ابو بکر کہاں سے بنتا اگر وہ رسول کریم ﷺ کا غلام نہ ہوتا اور عمر عمرؓ کہاں سے بنتا اگر وہ رسول کریم ﷺ کا غلام نہ ہوتا۔بیشک حضرت ابو بکر نے اسلام کیلئے ایک وسیع علاقہ فتح کیا اور پہلے سے زیادہ تعداد میں لوگوں پر حکومت کی مگر جو لوگ آپ کے تابع ہوئے وہ کن فوجوں سے فتح ہوئے تھے؟ انہی فوجوں سے جو رسول کریم اللہ نے تیار کی تھیں۔اور بیشک حضرت عمر نے اس سے بھی زیادہ علاقہ پر حکومت کی اور اس سے بھی زیادہ افراد حلقہ بگوش اسلام بنائے مگر سوال ی یہ ہے کہ کیا عمر نے کوئی اپنی فوجیں تیار کر لی تھیں؟ حضرت عمرؓ نے وہی فوجیں لیں جو محمد ﷺ نے تیار کی تھیں اور اُسی سامان اور اُسی ایمان سے کام لیا جو سامان اور ایمان رسول کریم علیہ نے تیار کیا تھا۔وہی قربانی ، وہی ایثار ، وہی اخلاص اور وہی محبت کا جذبہ جو رسول کریم ﷺ نے لوگوں کے قلوب میں پیدا کیا تھا ، اُسی کو حضرت عمرؓ نے لیا اور اُن چیزوں کو اکٹھا کر کے ان سے ایک عمارت تیار کی۔پس وہ عمر کی کی عمارت نہیں تھی ، وہ رسول کریم ﷺ کی عمارت تھی اور جبکہ وہ سامان جن سے حضرت ابوبکر نے بڑائی حاصل کی ، رسول کریم ﷺ کے پیدا کئے ہوئے تھے اور جب کہ وہ سامان جن سے حضرت عمر نے بڑائی کی حاصل کی ، رسول کریم ﷺ کے پیدا کئے ہوئے تھے۔تو گو ظاہری طور پر حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے کی یادہ علاقہ پر حکومت کی مگر وہ رسول کریم ﷺ سے بڑے نہیں تھے اور گو ظاہری طور پر ان کی رعایا کی