خطبات محمود (جلد 18) — Page 343
خطبات محمود ۳۴۳ سال ۱۹۳۷ء ہی نے اس نوٹ کو ضرور پڑھ لیا ہو گا سخت غلطی ہے۔ ہمارے ہندوستانی اخبارات کی توسیع اشاعت ہوا نہیں کرتی مستقل خریدار سات آٹھ سو یا ہزار ہوتے ہیں اور ہنگامی طور پر بعض دفعہ دو اڑھائی ہزار تک ان کی اشاعت ہو جاتی ہے۔ شاذ و نادر کے طور پر بعض ہندوستانی اخبارات ایسے ہوئے ہیں جن کی خریداری پانچ سات ہزار تک پہنچی ہے ۔ مگر یہ خریداری بھی عارضی ثابت ہوئی ہے اور پھر خریداری گھٹ کر ہزار دو ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ ایک اخبار کی اشاعت ہزار دو ہزار نہیں ، پانچ ہزار ہے یا دس ہزار ہے یا ہمیں ہزار ہے یا پچاس ہزار بلکہ لاکھ دو لاکھ حتی کہ دس لاکھ بھی ہے پھر بھی اُس اخبار کا یہ فرض کر لینا کہ جس کے متعلق کوئی نوٹ لکھا گیا ہے وہ ضرور اس تک پہنچ گیا ہوگا اور اُس نے پڑھ لیا ہوگا ، عقل سے بعید بات ہے اور دیانتداری کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر متعلقہ شذرہ پر نشان لگا کر اُس شخص کو بھجوا دیا جائے جس سے اس کے جواب کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ پس جب کوئی شخص کسی سے جواب کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ اس مضمون یا نوٹ پر نشان لگا کر بھیج دے اس کے بغیر یہ امید کر لینی کہ میرا پرچہ پہنچ گیا ہو گا اور پھر نوٹ بھی پڑھ لیا گیا ہوگا ، بالکل خلاف عقل بات ہے۔ میں اپنے اخبارات کو بھی اس موقع پر یہ ہدایت دیتا ہوں کہ جب وہ اپنے مضمون میں کسی سے جواب کا مطالبہ کریں تو وہ اس اخبار پر نشان لگا کر اس شخص کو بھجوا دیا کریں جس سے جواب کا مطال کیا گیا ہو۔ بلکہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اخبار رجسٹری کر کے بھجوایا کریں تا گلی طور پر یہ اطمینان ہو جائے کہ پرچہ اسے پہنچ گیا ہوگا اور اگر ہمارے اخبار بھی کسی کے متعلق نوٹ تو لکھیں لیکن پرچے پر نشان لگا کر اور رجسٹری کرا کر اسے نہ بھیجیں اور پھر کہیں کہ اس نے جواب نہیں دیا تو میں سمجھوں گا کہ وہ حق پر نہیں ۔ کیونکہ یہ امید کرنی کہ ہر مخالف الفضل“ کا ایک ایک حرف پڑھتا ہے بالکل خلاف عقل بات ہے ۔ اسی طرح میں دوسروں سے بھی کہتا ہوں کہ اگر وہ ہم میں سے کسی کے متعلق کوئی نوٹ لکھیں تو اُس اخبار کو رجسٹری کرا کے اُس شخص کے پاس بھیج دیا کریں ۔ وہ اگر مناسب سمجھے گا تو جواب دے دے گا اور اگر نہیں سمجھے گا تو نہیں دے گا۔ بہر حال وہ یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے اپنا مضمون پہنچا دیا تھا۔ گو جیسا کہ میں نے بتایا ہے جواب دینے والا اس بات پر مجبور نہیں ہوتا کہ ہر بات کا جواب دے کیونکہ بعض باتوں کا جواب خاموشی ہی ہوتا ہے۔ جیسے کہتے ہیں " جواب جاہلاں خموشی باشد، لیکن کم سے کم جب صحیح طریق پر سوال پہنچا دیا