خطبات محمود (جلد 18) — Page 337
خطبات محمود ۳۳۷ سال ۱۹۳۷ء نزد یک مجرم ہوگی ۔ دوستوں کا فرض ہے کہ اپنے ضروری کاموں سے بھی وقت نکال کر اور اپنی نیند کو بھی کم کر کے اور اپنے آرام کو بھی قربان کرنے اس فتنہ کا مقابلہ کریں اور جہاں ان کے اشتہار پہنچیں وہاں تک ضرور اپنی آواز پہنچا کر ان کے زہر کا ازالہ کریں۔ تا یہ لوگ جماعت احمدیہ کی ترقی میں روک نہ پیدا کر سکیں اور تا نظام سے بغاوت کی روح احمد یہ جماعت میں سے ہمیشہ کیلئے کچلی جائے اور شیطان پھر اس سوراخ میں سے احمدیت کی جنت میں داخل نہ ہو سکے ۔ مبارک ہیں وہ جو وقت کو پہچانتے ہیں اور سیلاب سے پہلے سیلاب کا راستہ روکتے ہیں اور حق کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدا تعالیٰ کی مقدس فوج میں شامل ہوتے ہیں ۔ وہی ہیں جو اپنے پیدا کرنے والے کے دائیں طرف اُس کے عرش پر جگہ پائیں گے ۔ کیونکہ وہ اسلام کے قلعہ کی فصیلوں کے محافظ ہیں اور آسمانی خزانہ کے پہرہ دار ۔ جب تک وہ اور ان کے شاگرد محافظ دنیا میں زندہ رہیں گے احمدیت بھی زندہ رہے گی اور جب ان کی شاگردی کا دروازہ بند ہوگیا دنیا پھر تاریکی اور کفر کی طرف لوٹ جائے گی ۔ وَاللهُ الْمُعوّذ الفضل ۱۷ اگست ۱۹۳۷ ء ) النساء: ۹۵ الحجرات : 2 بخاری کتاب الفتن باب قول النبى اللسترون بعدی اموراً (ان) تذکرہ صفحہ ۴۴۱۔ ایڈیشن چہارم