خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 338

خطبات محمود ۳۳۸ ۲۵ سال ۱۹۳۷ء کیا خطبہ جمعہ پر بھی دفعہ ۱۴۴ عائد ہوتی ہے؟ فرموده ۱۳ اگست ۱۹۳۷ء بمقام قادیان) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں خطبہ کیلئے تیاری کر کے آرہا تھا کہ خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب نے پیغام بھیجا کہ میں ایک ضروری امر کے متعلق کچھ بات کرنی چاہتا ہوں۔میں جب باہر آیا تو خانصاحب نے بتایا کہ مجھے کی مجسٹریٹ علاقہ نے ابھی بلوایا تھا اور جب میں گیا تو کہا کہ آج آپ کا جمعہ ہوگا ؟ اس میں کس کس کی تقریریں ہوں گی ؟ میرے جواب دینے پر کہ ہمارے ہاں تو خطبہ ہی ہوتا ہے اور وہ حضرت صاحب پڑھاتے ہیں۔فرمایا کہ میں یہاں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر چکا ہوں اور اس کے ماتحت جمعہ کا اجتماع بھی آتا ہے۔مگر میں اس کی اجازت دے دیتا ہوں بشرطیکہ خالص مذہبی مضمون ہو۔میرے کہنے پر کہ ڈی۔سی صاحب نے حضرت صاحب سے خواہش کی تھی کہ لوگوں کو پُر امن رہنے کی تلقین کر دیں اور حضرت صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ میں اس جمعہ پر ایسا کرنے کا پہلے ہی ارادہ رکھتا ہوں۔کہا کہ اچھا میں اس کی اجازت دیتا ہوں۔مگر اسکے سوا مرتدین کے متعلق اور کچھ نہ کہیں۔خانصاحب کہتے ہیں کہ میں نے مجسٹریٹ صاحب سے کہہ دیا کہ میں یہ پیغام پہنچا دوں گا۔اس پیغام سے ظاہر ہے کہ مجسٹریٹ صاحب کے نزدیک مسلمانوں کی عبادت بھی گورنمنٹ کے قانون کے ماتحت ہے۔لیکن چونکہ ہمارا دین ایک خدا کا دین ہے گورنمنٹ کا نہیں اس لئے میں خطبہ گورنمنٹ کی اجازت کے ماتحت پڑھنے کیلئے تیار نہیں ہوں اس لئے آج میں صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت