خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 325

خطبات محمود کہتے ہیں ۔ ۳۲۵ سال ۱۹۳۷ء ایک دلیل مصری صاحب یہ دیتے ہیں کہ عزت کا حاصل ہونا اور بات ہے اور خلیفہ کے مقابل پر عزت حاصل ہونا اور بات ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے یہ تو کہا ہے کہ عزت حاصل ہے مگر یہ تو نہیں کہا کہ خلیفہ کے مقابل پر مجھے عزت حاصل ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی یہ بات صحیح ہے کہ ان دونوں باتوں میں فرق ہے اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے صرف عزت کا حاصل ہونا کہا ہے ، خلیفہ کے مقابلہ پر عزت کا دعوی نہیں کیا تو ہم مان لیں گے کہ ان کی اتنی بات صحیح ہے ۔ مثلاً کسی گاؤں کا کوئی نمبردار ہے، اس گاؤں کے دس بارہ گھر ہیں اور وہ کہتا ہے کہ میں ایک معزز آدمی ہوں تو کسی کا اسے یہ کہنا کہ اگر تو معزز ہے تو چل بادشاہ کا مقابلہ کر ، بالکل غلط مطالبہ ہوگا ۔ کیونکہ اُس نے تو اپنے گاؤں میں عزت کا دعویٰ کیا ہے نہ کہ بادشاہ کے مقابل پر ۔ پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مع ائے کہ مصری صاحب نے صرف عزت کا دعویٰ کیا ہے خلیفہ کے مقابلہ پر عزت کا دعویٰ نہیں کیا ، تو ان کی یہ بات صحیح ماننی پڑے گی ۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ فقرہ انہوں نے خلیفہ کے متعلق لکھا ہے یا کسی اور کے متعلق ۔ جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس شخص کو جماعت میں عزت حاصل ہے۔ تو اس ” آپ سے ان کی مراد خلیفہ تھی یا محلہ دار الرحمت کا پریذیڈنٹ ؟ بالفاظ دیگر مصری صاحب کا یہ فقرہ یوں ہے ۔ کیونکہ خلیفہ صاحب اچھی طرح جانتے تھے کہ مصری صاحب کو جماعت میں عزت حاصل ہے۔ مستریوں کے متعلق تو اس قسم کے غذر گھڑ لئے گئے تھے کہ ان کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ کیا تھا یا ان کی لڑکی پرسوت لانے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر مصری صاحب کے متعلق اس قسم کا کوئی عذر بھی نہیں چل سکتا ۔ مصری صاحب کے اخلاص میں کوئی دھبہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ مصری صاحب کی بات کو جو وہ خلیفہ کی مخالفت میں کہیں گے جماعت مستریوں کی طرح رڈ نہیں کرے گی بلکہ مصری صاحب کی بات پر جو وہ خلیفہ کی مخالفت میں کہیں گے جماعت کو کان دھر نا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گی“۔ اب مصری صاحب بتائیں کہ کیا ان کے فقرہ کی یہ تشریح ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو پھر اس فقرہ میں خلیفہ کے بالمقابل عزت کا سوال ہے یا کسی اور کے مقابل پر ۔ یہ اعتراض جو انہوں نے کرنے تھے ، مجھ پر کرنے تھے یا مولوی اللہ دتا صاحب پر ؟ اور جماعت نے کان ان اعتراضوں پر دھرنا تھا جو مولوی اللہ دتا صاحب پر کئے جانے والے تھے یا ان پر جو خلیفہ وقت پر کئے جانے تھے؟ اگر آخری بات درست ہے تو