خطبات محمود (جلد 18) — Page 324
خطبات محمود ۳۲۴ سال ۱۹۳۷ء یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے جماعت میں عزت حاصل ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھ پر کوئی الزام نہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ اب احباب خود ہی غور فرمائیں کہ میری عبارت میں کیا کان دھرنے کی وجہ اثر و رسوخ بتائی گئی ہے یا اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ میری طرف نہ تو کوئی دُنیوی غرض منسوب کی جا سکتی ہے جیسی مستریوں کی طرف کی گئی اور نہ کوئی ایسی بات پیش کی جاسکتی ہے جیسی مستریوں کی کی طرف کی گئی تھی۔گویا یہ عزت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہا تھا کہ مجھ پر کوئی الزام نہیں۔اب میں پھر ان کا وہ فقرہ پڑھ دیتا ہوں تا احباب غور کر سکیں کہ کیا اردو کے قاعدہ کے لحاظ سے اس کے یہ معنے بن سکتے ہیں جو مصری صاحب ظاہر کرتے ہیں۔ان کا فقرہ یہ ہے ” کیونکہ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس کی شخص کو جماعت میں عزت حاصل ہے مستریوں کے متعلق تو اس قسم کے غذ رگھڑ لئے گئے تھے کہ ان کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ کیا تھا۔یا ان کی لڑکی پر سوت لانے کا مشورہ دیا تھا مگر یہاں اس قسم کا کوئی عذر نہیں کی چل سکتا۔اس کے اخلاص میں کوئی دھبہ نہیں لگایا جا سکتا۔اس کی بات کو جماعت مستریوں کی طرح ردّ نہیں کرے گی بلکہ اسے اس پر کان دھر نا پڑے گا“۔اس عبارت میں کان دھرنے کے دعوئی سے پہلے دو باتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک یہ کہ مصری صاحب کو جماعت میں عزت حاصل ہے دوسری یہ کہ ان پر مستریوں کی طرح کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔پھر عجیب بات ہے کہ مصری صاحب کہتے ہیں کہ ان میں سے دوسری تو کان دھرنے کا ہے پہلی نہیں۔جب دو باتیں جو دونوں سبب کان دھرنے کا ہوسکتی ہیں اکٹھی مذکور ہیں تو ایک کو وجہ قرار دینا اور دوسری کو مستثنی قرار دینا کس طرح جائز ہے۔اگر کوئی دلیل ہے تو مصری صاحب پیش کریں۔ور نہ زبان کے قاعدہ کے مطابق یہ دونوں باتیں لازماً کان دھر نے کا سبب قرار پائیں گی اور کان دھرنا دونوں ہی کا نتیجہ سمجھا جائے گا۔میں اس مضمون کو ایک اور مثال سے واضح کرتا ہوں۔اگر کوئی شخص کہے میں لمبے قد کا ہوں اور گھوڑے پر سوار ہوں ، اس لئے میرا ہاتھ چھت تک جاسکتا ہے تو اس کے معنے یہی ہوں گے کہ اپنا ہاتھ چھت پر پہنچنے کی وجہ وہ شخص اپنے لمبے ہونے کو نہیں بیان کرتا نہ گھوڑے پر سوار ہونے کو بلکہ لمبا ہونے اور گھوڑے پر سوار ہونے کے مجموعہ کو ہاتھ پہنچنے کا سبب قرار دیتا ہے۔پس مصری کی صاحب کے زیر بحث فقرہ کے معنے اُردو زبان کے عام قاعدہ کے رُو سے یہی ہیں کہ وہ جماعت کے کان دھرنے کے دو سبب بیان کرتے ہیں۔ایک عزت حاصل ہونا اور دوسرے کسی الزام کا نہ ہونا اور یہی ہم