خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 323

خطبات محمود ۳۲۳ سال ۱۹۳۷ء نہیں ہوتا کہ تیرا خیال ہے بلکہ یہ کہ یہ امر واقعہ ہے ۔ 66 اُردو میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے، یعنی جب کہیں کہ تو جانتا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ تیرا وہم ہے بلکہ یہ مطل ہے بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ میری اس طاف اس طاقت کا تجھے بھی علم ہے۔ اور جب یہ کہنا ہو کہ یہ محض تمہارا خیال ہے ، واقعہ میں نہیں تو اردو میں تو کہتے ہیں کہ یہ تمہارا خیال ہے۔ اور پنجابی میں کہتے ہیں ۔ تینوں ایویں وہم ہے ۔ اس تشریح کو مد نظر رکھتے ہوئے مصری صاحب کا فقرہ پڑھو جو یہ ہے کہ آپ اچھی طرح ۔ رح جانتے تھے کہ اس شخص ( مصری صاحب ) کو جماء حب ) کو جماعت میں عزت حاص عزت حاصل ہے ۔ اس کے صاف معنی یہی ہیں کہ میری عزت کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ۔ یہ اتنی ظاہر بات ہے کہ تمہیں بھی اس کا پتہ ہے ۔ پنجابی میں اس کا ترجمہ یہ ہوگا ۔ تہانوں چنگی طرح پیتی سی کہ مصری صاحب دی جماعت و چ بڑی عزت ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس کے معنی یہی ہیں کہ مجھے جماعت میں اتنی عزت حاصل ہے کہ خلیفہ کو بھی اس کا علم ہے ۔ ” جانتے تھے“ کے الفاظ سے اگر کچھ نکلتا ہے تو یہ کہ من یہ کہ مصری صاحب اپنی عزت کو اتنا بڑا سمجھتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ خلیفہ بھی اس سے نا واقف نہیں ہو سکتا ۔ اور اس نے خوب ٹھوک بجا کر دیکھ لیا ہے کہ مجھے عزت حاصل ہے۔ یہ دعویٰ کوئی معمولی دعواً معمولی دعوی نہیں ۔ پس قواعد زبان اُردو اور پنجابی وو و ہے۔ کے مطابق ان کے اس فقرہ کا یہی مطلب ہے کہ مصری صاحب کو جماعت میں اپنی عزت کا یقین لفظ ” جاننے کے بعد جو فقرہ ہو وہ دعوی ہوتا ہے جس پر کہنے والے کا اعتماد اور یقین ہوتا ہے۔ زبان اردو کے قاعدہ کے مطابق بھی اور پنجابی کے محاورہ کے مطابق بھی اس کے یہی معنے ہیں کہ مجھے دعوی ہے کہ مجھے جماعت میں عزت زت حاصل حاص ہے اور یہ کوئی مخفی بات نہیں ۔ میرا دشمن بھی یہ جانتا۔ مانتا ہے کہ مجھے عزت حاصل ہے اور اس تشریح کو مد نظر رکھتے ہوئے مصری صاحب کے اس فقرہ کا تفسیری ترجمہ یہ بنے گا کہ نہ صرف یہ کہ مجھے ہی اس بات کا پتہ ہے بلکہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ مجھے جماعت میں عزت حاصل ہے۔ مستریوں کے متعلق تو یہ عذر گھڑ لیا گیا تھا کہ ان کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ کیا تھا یا ان کی لڑکی پر سوت لانے کا مشورہ دیا تھا مگر میرے ( مصری صاحب کے ) کے متعلق کوئی ایسا عذر نہ چل سکتا۔ میری ( مصری صاحب کی ) بات پر اسے کان دھرنا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گی ۔ اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ فقرہ تکبر کا ہے یا انکسار کا۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ میں نے جو یہ لکھا تھا کہ میری بات پر جماعت ضرور کان دھرے گی ۔ اس کا