خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 322

خطبات محمود ۳۲۲ سال ۱۹۳۷ء و طرف منسوب کی ہے چنانچہ اس کے مندرجہ ذیل الفاظ قابلِ غور ہیں ۔ وو کیونکہ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس شخص (مصری صاحب ) کو جماعت میں عزت حاصل ہے۔ مستریوں کے متعلق تو اس قسم کے غذر گھڑ لئے گئے تھے کہ ان کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ کیا تھا یا۔ ان کی لڑکی پر سوت لانے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر یہاں اس قسم کا کوئی عذر بھی نہیں چل سکتا ۔ اس (مصری صاحب) کے اخلاص میں کوئی دھبہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اس (مصری صاحب) کی بات کو جماعت مستریوں کی طرح رو نہیں کرے گی بلکہ اسے اس پر کان دھرنا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گئی۔ ممکن ہے کوئی شخص خیال کرے کہ وہ تو کہتے ہیں کہ میں نے یہ لکھا ہے کہ آپ جانتے تھے ور خود تو یہ دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن میں اُردو اور پنجابی کی مثالوں سے ثابت کرتا ہوں کہ اس فقرہ کے کہ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس شخص کو جماعت میں عزت حاصل ہے، یہ معنی ہیں کہ کہنے والے کا دعوی ہے کہ وہ بڑا اور صاحب عزت آدمی ہے۔ پنجابی میں بھی اس محاورہ کے یہی معنی ہیں اور اُردو میں بھی ۔ اور چونکہ اُردو دان پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں میں پہلے پنجابی کا محاورہ لیتا ہوں ۔ کسی گاؤں میں کوئی جاٹ کسی بنٹے سے لڑے اور کہے کہ توں جاننا ایں میں تینوں اک مگا 66 ماراں تے سارے دند کڈ سٹاں ۔ یعنی تم جانتے ہو کہ اگر میں ایک مکا ماروں تو تمہارے سارے دانت نکال دوں ۔ تو کیا اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جاٹ بنئے سے یہ کہہ رہا ہے کہ میں تو بالکل کمزور آدمی ہوں مگر تیرا یہ خیال ہے کہ اگر میں تجھے ایک مکا ماروں تو تیرے سارے دانت نکل جائیں یا اس کے یہ معنے ما ہیں کہ جاٹ خود یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اتنا طاقتور ہے کہ ایک گھونسہ مارے تو بنئے کے سارے دانت توڑ دے۔ اس کے معنی کوئی عقلمند یہ نہیں لے گا کہ جاٹ کا مطلب اس سے یہ ہے کہ یہ فقط بنئے کا خیال ہے بلکہ اس کے معنے یہی لئے جائیں گے کہ جاٹ کے خیال میں جاٹ کا یہ دعوی ایسا ظاہر اور ثابت ہے کہ بنیا بھی اس سے نا واقف نہیں ۔ وہ اتنی ثابت مھدہ اور واضح حقیقت ہے کہ وہی نہیں بنیا بھی اس سے خوب واقف ہے ۔ اس میں نفی نہیں بلکہ اقرار ہے کہ وہ ایسا ہے بلکہ اس کے ایسا طاقتور ہونے کی دوسروں کو بھی خبر ہے اور دشمن بھی اس سے واقف ہیں ۔ غرض یہ الفاظ دعوی کو زیادہ مضبوط کرتے ہیں اور اس کے زور کو کم نہیں کرتے ۔ پنجابی میں تو ” جاننا ایں“ کی بجائے تینوں پتہ اے بھی کہتے ہیں اور اس کا یہ مطلب