خطبات محمود (جلد 18) — Page 316
خطبات محمود ۳۱۶ سال ۱۹۳۷ء میں ایسے فقرے بھی موجود ہیں جن میں اپنی بے بسی اور بے کسی کا اظہار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ فقرہ جسے ہماری طرف سے پیش کیا گیا ہے وہ بھی موجود ہے یا نہیں ۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ میرے خطوط میں مندرجہ ذیل فقرہ موجود ہے :- کیونکہ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس شخص کو جماعت میں عزت حاصل ہے۔ مستریوں کے متعلق تو اس قسم کے غذر گھڑ لئے گئے تھے کہ ان کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ کیا گیا تھا یا ان کی لڑکی پرسوت لانے کا مشورہ دیا تھا مگر یہاں اس قسم کا کوئی عذر بھی نہیں چل سکتا۔ اس کے اخلاص میں کوئی دھبہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کی بات کو جماعت مستریوں کی طرح رد نہیں کرے گی بلکہ اس پر اسے کان دھر نا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گی“۔ اس فقرہ کے موجود ہونے کا مصری صاحب کو بھی انکار نہیں ۔ وہ مانتے ہیں کہ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے مگر کہتے ہیں کہ اس سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے وہ غلط ہے ۔ اب ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ نتیجہ وہ درست ہے جو مصری صاحب نے نکالا ہے یا وہ جو ہم نکالتے ہیں اور اس امر کے سمجھنے کیلئے کہ کونسی بات درست ہے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب ایک شخص کے دوقولوں میں بظاہر اختلاف نظر آئے ، یعنی ایک قول سے بظاہر جو نتیجہ نکلتا ہو دوسرے قول سے اس کے مخالف نتیجہ نکلتا ہو تو ایسی صورت میں تین باتوں میں سے ایک ضرور ماننی پڑے گی چوتھی صورت نہیں ہو سکتی ۔ (1) یا کہنا پڑے گا کہ دونوں عبارتیں غلط ہیں ۔ (۲) یا دونوں ٹھیک ہیں ۔ (۳) یا ایک غلط اور ایک ٹھیک ہے۔ - مثلاً ایک شخص پہلے کہتا ہے میں لاہور گیا تھا۔ دوسرے موقع پر اسی سفر کے متعلق کہتا ہے میں دہلی گیا تھا۔ ان دو بظاہر مختلف اقوال کی نسبت یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں جھوٹے ہوں ۔ نہ وہ لاہور گیا ہو نہ دہلی بلکہ کہیں بھی نہ گیا ہو۔ یا گیا تو ہو وہ مگر کسی اور شہر کی طرف گیا ہو ۔ یہ ضروری نہیں کہ دونوں باتوں میں سے ایک ضرور صحیح ہو ۔ دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان میں سے ایک صحیح اور ایک غلط ہو۔ یعنی بالکل ممکن ہے وہ لاہور اور دہلی میں سے ایک جگہ گیا تو ہوا اور دوسری جگہ کے متعلق اس نے جھوٹ بولا ہو ۔ اسی طرح ایک تیسری صورت بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ اس کے دونوں قول صحیح ہوں چونکہ لاہور سے ہوتے