خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 311

خطبات محمود ۳۱۱ سال ۱۹۳۷ء درکار ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود کی جماعت کی نسبت فرماتا ہے كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْلَهُ فَازَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ " یعنی وہ جماعت اس سبزے کی طرح ہوگی جو زمین میں سے نکلتا ہے اور نہایت ہی کمزور اور ناطاقت ہوتا ہے۔جدھر سے بھی ہوا چلتی ہے وہ اس کے دباؤ سے جھک جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ آندھیاں اور ہوائیں اُسے جڑ سے نہیں اُکھاڑ سکیں گی بلکہ وہ پودا بڑھے گا اور بڑھتا چلا جائے گا یہاں تک کہ مضبوط ہو جائے گا اور دنیا کے حوادث اور مخالفت کی آندھیاں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکیں گی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی خلافت قائم ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد بھی خلافت قائم ہوئی مگر ان دونوں خلافتوں میں ایک فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ کی اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اسلام کے تمام احکام عملی طور پر قائم ہو گئے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد ان احکام کے عملی صورت میں قائم ہونے کیلئے ایک لمبا عرصہ مقدر ہے۔پس گو پہلے خلفاء کے زمانہ میں بھی اگر کوئی تفرقہ کرتا تو وہ شدید گناہ کا مرتکب ہوتا مگر عملی صورت میں یقیناً اسلامی احکام کو نقصان نہ پہنچ سکتا کیونکہ اسلامی تعلیم قائم ہو چکی تھی۔اسے جو بھی نقصان اور ضعف پہنچتا وہ سیاسی ہوتا۔لیکن آج اگر کوئی شخص تفرقہ پیدا کرتا اور جماعت کے اتحاد کو تباہ کرنے کے در پے ہوتا ہے تو وہ صرف تفرقہ پیدا نہیں کرتا بلکہ اسلام کو ضعف پہنچاتا اور اس کی ترقی میں زبر دست روک بنتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی سزاؤں میں بھی دونوں جگہ فرق ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ فعل بتا رہا ہے کہ اس زمانہ کے خلفاء اور اس زمانہ کے خلفاء کے انکار کی سزاؤں میں بہت بڑا فرق ہے۔اُس وقت جو خلافت کے مخالفین تھے وہ مذہب سے دور نہیں ہوئے مگر آج جو شخص خلافت کی مخالفت کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ مذہب کو بھی یا تو بالکل چھوڑ دیتا ہے یا اس کے مذہب میں رخنہ پڑ جاتا ہے۔چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی سعد نے بیعت نہ کی۔آپ نے حکم دیا کہ ان سے قطع تعلق کر لیا جائے۔چنانچہ کوئی شخص ان ان سے نہ بولتا اور نہ لین دین کے تعلقات رکھتا لیکن وہ مسجد میں آتے نماز پڑھتے اور چلے جاتے۔پھر سعدی جب فوت ہوئے تو تمام مسلمانوں نے اُن کا جنازہ پڑھا اور اس طرح انہوں نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ وہ انہیں مومن ہی سمجھتے تھے ( سعد نے بھی کبھی کوئی اعتراض حضرت ابو بکر پر یا نظام سلسلہ پر نہیں کیا نہ کبھی عملاً اس کی مخالفت کی )۔