خطبات محمود (جلد 18) — Page 30
خطبات محمود ۳۰ سال ۱۹۳۷ء یتیم اور مسکین بچوں کو بھی مختلف پیشے سکھائے جائیں تا کہ وہ آوارہ نہ پھر یں اور بیروز گار رہ کر تکلیف نہ اُٹھائیں ہماری جماعت فوراً بے دین بے رغبت ہو گئی اور ہمارے دین کا ذخیرہ ختم ہو گیا ۔ گویا جب تک ہم میں سے بعض اپنے نفس کیلئے روٹی کماتے رہے اُس وقت تک تو مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک ہم دین دار تھے لیکن جب ہم نے یہ کوشش شروع کی کہ ہم اپنے ہنر یتیموں اور مسکینوں کو بھی سکھائیں تو فوراً بقول مولوی محمد علی صاحب ہمارے ایمان کا دیوالیہ نکل گیا اور ہم دنیا میں مشغول ہو گئے اور وہ شکایت کرنے لگ گئے کہ اب قادیان میں دین کہاں رہ گیا ، اب تو بے دینی آگئی ہے۔ گویا ان کے نزدیک دینِ اسلام نام ہے یتیموں کو بُھو کا مارنے اور بیکاروں کو ہمیشہ بیکار رکھنے کا۔ اور جب کسی قوم میں یتیموں کو کام پر لگانے کا جذبہ پیدا ہو جائے یا بیکاری کو دور کرنے اور غریبوں کو ہنر سکھانے کا اسے خیال آئے ، اُسی دن سے وہ بے دین بن جائے گی ۔ ایک زمیندا راگر سارا دن اپنے زمیندارہ کے کام میں لگا ر ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ کسی غریب لڑکے کو زمیندارہ کا کام سکھا دیتا ہے تو بے دین بن جاتا ہے۔ یہ دین کی ایک ایسی اصطلاح ہے کہ غالباً مولوی محمد علی صاحب ہی اس کے موجد ہیں ۔ نہ کسی عقلمند آدمی کو اس سے پہلے یہ اصطلاح ح سوجھی ہے اور نہ شاید اب کسی عقلمند آدمی کی سمجھ میں یہ اصطلاح آئے ۔ پھر عجیب بات یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب سے تعلق رکھنے والے لائل پور میں بعض کارخانہ دار ہیں جنہیں اپنی قسم کے کارخانہ والوں کا بادشاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ مولوی محمد علی صاحب ان سے چندے بھی وصول کرتے ہیں ان کی بڑی بڑی رقموں پر انہیں شاباش بھی دیتے ہیں مگر ان کے کارخانوں میں بے دینی کی کوئی علامت انہیں نظر نہیں آتی غالبا اس لئے کہ لائل پور کے لوگ اپنی ذات کیلئے کماتے ہیں ۔ پس مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک اپنی ذات کیلئے کمانے میں کوئی حرج نہیں لیکن جب ہم کسی یتیم ، غریب اور بے کس کیلئے کمائیں تو دین میں فتور آ جاتا ہے ۔ ہمارے کارخانے چونکہ اپنے ذاتی مفاد کیلئے نہیں بلکہ ان کے قائم کرنے کی غرض یہ ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کی جائے اور انہیں کام مہیا کر کے دیا جائے جس سے وہ اپنی روزی کماسکیں اس لئے ان کے نزدیک قادیان کی جماعت احمد یہ دین اسلام سے بالکل بے رغبت ہوتی چلی جاتی ہے اور اشاعت اسلام کا کام اس نے بند کر رکھا ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر لطیفہ یہ ہے کہ انجمن اشاعتِ اسلام لاہور مربعے خریدتی اور انہیں اپنے استعمال میں لاتی ہے اور اس سے دین کی اشاعت میں فرق نہیں آتا ۔ لیکن اگر غریب کو پیشہ سکھا دیا