خطبات محمود (جلد 18) — Page 29
خطبات محمود ۲۹ سال ۱۹۳۷ء کاموں سے الگ ہو کر صرف اشاعتِ اسلام میں لگے ہوئے ہوں۔یا کوئی ایسا انتظام ہوا ہے جو دنیا کی اصلاح کے تمام کاموں سے جُدا ہو کر صرف تبلیغ میں لگا ہوا ہو۔ہر واقف کار آدمی جانتا ہے کہ ایسا کبھی کچ صلى الله نہیں ہوا۔رسول کریم ﷺ کے صحابہ بھی اپنی روٹی کمانے کیلئے کام کیا کرتے تھے اور خود رسول کریم ﷺ انہیں محنت سے روزی کمانے کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ان میں تاجر بھی تھے ، صناع بھی تھے ، پیشہ ور بھی تھے ، اہل حرفہ بھی تھے ، ہر قسم کے لوگ تھے جو محنت کرتے تھے ، مزدوری کرتے تھے اور اپنے پیٹ پالتے صلى الله تھے اور اپنی آمد سے دین کی خدمت کرتے تھے۔اور خود رسول کریم وہ نہ صرف یہ کہ ان کے اس طرح کی دنیوی کاموں میں مشغول ہونے کو برا نہ مناتے تھے بلکہ اس طرح رزق حلال کمانے کو پسند فرماتے اور اس کی طرف انہیں رغبت دلاتے رہتے تھے۔پھر اسلامی نظام صرف لوگوں کو کلمہ ہی نہیں پڑھاتا تھا بلکہ دُنیوی کام بھی سکھاتا تھا۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے بدر کے کفار قیدیوں میں سے بعض کیلئے آزادی کا فدیہ ہی یہ مقرر کیا تھا کہ مدینہ کے لڑکوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں۔یہ ظاہر بات ہے کہ ملکہ کے کفار سے آنحضرت ﷺ نے یہ تو کہا نہیں ہوگا کہ اسلام کے معارف لوگوں کو پڑھاؤ۔وہ کمبخت جو خود اسلام نہ جانتے تھے مدینہ کے لوگوں کو اسلام کیا سکھاتے۔اُن سے آخر یہی مطالبہ ہوگا کہ دُنیوی علوم اور ظاہری لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔پس نظام اسلامی بھی اس قسم کے کاموں سے بے رغبتی نہیں برت سکا۔ہم لوگ جن کی بے رغبتی کا ماتم کرنے کیلئے مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے ہیں ، اس سے پہلے ہماری جماعت بھی تو ساری کی ساری دن رات اشاعت دین میں مشغول نہ رہتی تھی۔کیا ہم میں ایسے لوگ موجود نہیں تھے جو اپنی روٹی کمانے کیلئے کالجوں میں پروفیسر یا سکولوں میں اساتذہ تھے؟ یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں تھے جو اپنی روٹی کمانے کیلئے لوہارے کا کام کیا کرتے تھے؟ یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں تھے جو اپنی روٹی کمانے کیلئے درزی کا کام کرتے تھے ؟ یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں جو اپنی روٹی کمانے کیلئے ڈاکٹری کا پیشہ کرتے تھے؟ یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں جو اپنی روٹی کمانے کیلئے انجینئر نگ کا کام ان کرتے تھے؟ یا کیا ہم میں وہ لوگ موجود نہیں تھے جن میں سے کوئی اپنی روٹی کمانے کیلئے پٹوار کی ملازمت اختیار کئے ہوئے تھا، کوئی تحصیلدار تھا ، کوئی ای۔اے سی تھا ، کوئی زمیندارہ پر گزارہ کرتا تھا؟ پھر کونسا معقول انسان ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم میں لاکھوں آدمی اپنی روٹی کمانے کیلئے مختلف کام کرتے ہی رہے لیکن ہماری دین سے بھی بے رغبتی ثابت نہ ہوئی۔لیکن جونہی سلسلہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جماعت کے