خطبات محمود (جلد 18) — Page 282
خطبات محمود ۲۸۲ سال ۱۹۳۷ء تھا جس نے سکھوں کے زمانہ میں اسلام کی حفاظت کے لئے قربانیاں کیں۔پس ان کا مجھ پر حملہ اس لئے نہیں کہ میں بُزدل ہوں یا میرا خاندان جرات نہیں رکھتا بلکہ صرف اس لئے ہے کہ یہ جانتے ہیں کہ ان کی کی شرارتوں کا جواب میں شرارت سے نہیں دوں گا اور صبر سے ان کے ظلموں اور شرارتوں کو برداشت کروں گا۔ایسے لوگ اور کسی پر اعتراض نہیں کرتے ، صرف مجھ پر ہی کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ی وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھ پر اعتراض کریں گے اور میں ان کی حفاظت کروں گا۔وہ مجھے گالیاں دیں گے اور میں اس امر کا خاص خیال رکھوں گا کہ انہیں کوئی تکلیف اور دُکھ نہ پہنچے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ وہ دوسروں پر حملہ نہیں کرتے۔مؤمن ربانی ہوتا ہے۔پہلے وہ چھوٹی اصلاح شروع کرتا ہے۔بیسیوں عیوب ان کے ارد گرد موجود ہیں ان کے گھروں میں اور ان کے دوستوں میں پائے جاتے ہیں یہ لوگ کیوں ان کی اصلاح کی کیلئے کھڑے نہیں ہوتے ؟ کیوں ان کے متعلق اشتہار شائع نہیں کرتے ؟ مجھ پر ان کا حملہ بتاتا ہے کہ وہ کی یقین رکھتے ہیں کہ میں پر امن ہوں ورنہ دنیا میں کسی ادنیٰ سے ادنی آدمی پر بھی کوئی شخص اس طرح حملہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہو سکتا جس طرح مجھ پر حملہ کیا جاتا ہے۔گویا میں اس وسیع دنیا میں ایک ہی یتیم اور کی بے کس ہوں جس کی عزت پر حملہ کرنا کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔مگر دشمن نادان ہے، بیشک بظاہر میں ایک ہی یتیم ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ گوانسان مجھے چھوڑ دیں مگر خدا تعالیٰ مجھے نہیں چھوڑے گا۔میں نے اس دنیا میں ان لوگوں سے جو میری محبت کا دم بھرتے تھے، ظلم پر ظلم دیکھے ہیں مگر ایک ہے جس نے مجھے کبھی نہیں چھوڑا اور اُسی کے منہ کیلئے میں یہ سب ظلم برداشت کر رہا ہوں۔یہ خلافت میرے لئے پھانسی سے کم ثابت نہیں ہوئی۔لوگوں نے مجھے تختہ دار پر کھینچا اور فخر کرنے لگے کہ انہوں نے مجھے تخت بخش دیا ہے مگر میرے خدا نے مجھے کہا کہ یہ تو سب کچھ برداشت کر اور اُف نہ کر کیونکہ تیرے دکھ میرے لئے ہیں نہ کہ بندوں کیلئے۔پس جن کیلئے تیرے دُکھ نہیں تیرا حق نہیں کہ ان سے صلہ کا امیدوار ہو۔تیرا کام بندوں کیلئے بغیر اجرت کے ہے مگر تو بے اجرت نہیں چھوڑا جائے گا۔میں خود تیرے زخموں پر مرہم رکھوں گا اور تیری ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑ دوں گا۔انسانوں نے بیشک تیرے ساتھ ظلم کیا ہے مگر کیا میری محبت اس ظلم کا کافی سے زیادہ بدلہ نہیں ؟ اور کیا میری محبت کا دعوی کرتے ہوئے اس کے سوا تجھے اور کسی چیز کی خواہش ہو سکتی کی ہے؟ میرے رب کی یہی آواز ہے جس نے تاریکی کے وقتوں میں میرا ساتھ دیا ہے اور جب میرا دل