خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 28

خطبات محمود ۲۸ سال ۱۹۳۷ء میں سمجھتا ہوں اوّل تو یہ اعتراض اس لحاظ سے غلط ہے کہ ان کے نزدیک ہم اپنی تبلیغ اور جد و جہد سے لوگوں کو محمد ﷺ سے دور کر رہے اور اصل اسلام سے لوگوں کو منحرف کر رہے ہیں۔پس اگر وہ لوگ جو محمد اللہ کے دین سے لوگوں کو پھیرنے والے ہوں ، دنیوی کاموں میں مشغول ہو جائیں تو اس نے میں انہی کا فائدہ ہے اور اس پر انہیں تکلیف محسوس ہونے کی بجائے خوشی منانی چاہئے تھی۔کیونکہ اگر یہ صحیح ہے کہ ہماری تبلیغی کوششیں دین اسلام پر حملہ ہیں ختم نبوت کی تشریح جو ہماری طرف سے پیش کی جاتی ہے اس میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہے اور ہمارا لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا انہیں اصل اسلام سے منحرف کرنا ہے تو پھر تو انہیں خوش ہونا چاہئے کہ اب اسلام کی ترقی کا ان کیلئے راستہ کھل گیا ہے اور ہمارے دنیا میں مشغول ہو جانے کی وجہ سے اسلام پر جو پہلے حملے ہوا کرتے تھے اور ختم نبوت کو مٹانے کی جو کوششیں پہلے کی جاتی تھیں وہ اب نہیں ہوا کریں گی اور اب بجائے تبلیغ کے ہم ترکھانے اور لو ہارے کے کام میں مشغول رہا کریں گے۔پس ہمارے ان کارخانوں کے اجراء اور یتیموں اور بیکاروں کے کام پر لگ جانے سے اول تو انہیں خوش ہونا چاہئے تھا کہ اب ان کا راستہ صاف ہو گیا۔لیکن تعجب یہ ہے کہ اس پر انہیں تکلیف ہوئی۔پس اول تو وہ ہمارے متعلق جو پُرانے زمانہ میں یہ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے دین اسلام میں رخنہ ڈال دیا اور ان کی کوششوں نے لوگوں کو اسلام سے منحرف کر دیا اس کے مدنظر اب ہمارے کارخانوں کے اجراء اور بقول ان کے دنیا میں مشغول ہو جانے پر ان کا اعتراض کرنا درست معلوم نہیں ہوتا بلکہ انہیں خوش ہونا چاہئے تھا کہ فکر دور ہو گیا اور اب اسلام پر ایک جماعت جو حملہ کر رہی تھی اس میں کمی آنے کی امید ہوگئی۔لیکن اگر حقیقت یہ نہیں بلکہ دل میں وہ یہی مانتے تھے کہ احمدی تبلیغ اسلام کرتے ہیں صرف ظاہر میں وہ لوگوں کو دھوکا دینے اور ہماری طرف سے دنیا کو بدظن کرنے کیلئے کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ اسلام کے راستہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں تو پھر بھی ان کا یہ اعتراض ان کے قلتِ تدبر اور دین اسلام سے ناواقفیت پر دلالت کرتا ہے۔ان کا اعتراض یہ ہے کہ ان کارخانوں کے جاری کرنے کی وجہ سے کی قادیان کے لوگ بے دین ہو گئے ہیں اسلام سے غافل ہو گئے ہیں اور اشاعت اسلام کا کام انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔اس اعتراض پر میں جب بھی غور کرتا ہوں حیران ہوتا ہوں کہ کسی معقول انسان کی زبان پر یہ فقرہ آ کس طرح سکتا ہے۔کیا کبھی بھی کوئی ایسی جماعت ہوئی ہے جس کے تمام افراد ہر قسم کے دنیوی