خطبات محمود (جلد 18) — Page 278
خطبات محمود ۲۷۸ سال ۱۹۳۷ء ہے۔اور جب یہ کہا جائے کہ یہ بڑا جھوٹ بنایا گیا ہے تو کیا اس کے یہ معنے نہیں کہ اس الزام کا لگانے والا جھوٹا ہے۔تو اب بتاؤ کہ جب قرآنی تعلیم کے مطابق کوئی شخص ایسے موقع پر کہے کہ یہ الزام لگانے والا جھوٹا ہے تو وہ آگے سے یہ کہہ سکتا ہے کہ کس قدر ظلم ہے۔مجھے بلا تحقیق ہی جھوٹا کہہ دیا گیا ہے۔مگر قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی شان یہی ہے کہ فوراً کہہ دے هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ۔اور یہ اگلے کا فرض ہے کہ دلیل لائے۔مگر یہاں دلیل لانا تو الگ رہا الزام تک بیان نہیں کیا جاتا۔حالانکہ قرآن کریم نے صاف طور پر یہ اصول بتایا ہے کہ دلیل اور ثبوت الزام لگانے والے کے ذمہ ہے۔اسے چاہئے کہ اپنے ثبوت پیش کرے اور پھر اگر وہ شریعت کے مطابق ہوں تو مومن مان لے۔اور اگر کوئی دلائل بیان نہیں کرتا تو قرآن کریم صاف کہتا ہے کہ تم کہہ دو هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ يعنى شخص جھوٹ بھی معمولی نہیں بول رہا بلکہ کذاب ہے۔کا ذب خالی بہتان کا ترجمہ ہے اور بُهْتَان عَظِيمٌ ترجمہ کذاب ہے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم ہی ہے جو دنیا میں امن قائم رکھ سکتی ہے ورنہ کسی شریف آدمی کی عزت محفوظ نہیں۔فرض کرو کوئی شخص شیخ صاحب کی بیوی یا بیٹی پر کوئی الزام لگائے تو کیا وہ اُس کے ہاتھ پھو میں گے اور کہیں گے جزاک اللہ آپ نے بہت اچھا کیا جو مجھے بتا دیا میں اس کی تحقیقات کروں گا۔کیا ہی جن لوگوں نے حضرت عائشہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا پر الزام لگا یا رسول کریم ﷺ نے اُن کو بلا کر اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ تم لوگوں نے بڑا احسان کیا ہے؟ یا یہ کیا کہ آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ ایک شخص نے میرے اہل کے متعلق مجھے بہت دکھ پہنچایا ہے، کون ہے جو میری مدد کرے۔اس پر قبیلہ اوس کے ایک شخص نے کہا کہ يَارَسُولَ اللهِ ! اگر وہ ہمارے قبیلہ میں سے ہے تو ہم اس کو سزا دیں گے اور اس کا مقابلہ کریں گے۔آپ نے یہ تو نہیں کیا تھا کہ الزام لگانے والے پر دست شفقت پھیرا اور کہا ہو کہ اچھا میں تحقیق کروں گا۔تو قرآن کریم کا یہی فیصلہ ہے کہ ایسی بات سنتے ہی کہہ دو کہ هَذَا بُهْتَانَ عَظِيمٌ اور یہ حکم تو ایک معمولی مومن کے متعلق ہے اور خلیفہ سے تو بیعت کا بھی تعلق ہوتا ہے۔اگر یہ لوگ کسی ادنیٰ مومن پر بھی کوئی الزام لگاتے تو شریعت کا یہی حکم ہے کہ مومن سنتے ہی کہہ دے کہ یہ شخص کذاب ہے۔شیخ مصری صاحب کہتے ہیں کہ مجھے دو سال سے ان باتوں کا علم تھا اور پھر کہتے ہیں کہ مجھے ج منافق نہ کہو مگر سوال یہ ہے کہ منافق کسے کہتے ہیں؟ وہی جو ظاہراً جماعت کے ساتھ شامل ہو مگر اندر سے