خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 273

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء نہیں یہ کیا خیال کرتے ہوں گے کہ احمدیوں کے خلیفہ کے اخلاق ایسے ہیں۔انہیں میرے کسی موقع پر کم بخت کا لفظ چند ہندوؤں اور سکھوں کے سامنے کہہ دینے سے تو شرم آتی تھی کہ احمدیت بد نام ہو جائے گی لیکن وہ اس بات کو چھپوا کر سارے ہندوستان میں شائع کرتے ہیں اور اس میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ شرم کا اظہار صرف طعن کے طور پر ہے اور یہ بالکل جھوٹ ہے کہ ی انہیں احمدیت کے بدنام ہونے کا ڈر تھا۔ورنہ جس امر کا چھ سات آدمیوں کے سامنے بیان ہونا قابل شرم تھا وہ اسے لاکھوں کے سامنے پیش کرنے پر کس طرح راضی ہو گئے۔مگر اللہ تعالیٰ کا تصرف دیکھو کہ اس نے اس اشتہار میں ان کو ملزم بنادیا ہے۔میری نسبت تو یہ لکھتے ہیں کہ چند ہندوؤں اور سکھوں کے سامنے میں نے انہیں اور ان کے بعض ساتھیوں کو کم بخت کہا مگر لکھتے ہیں کہ مجھے شرم آتی تھی یہ ہندو اور کی سکھ کم بخت اپنے دل میں کیا کہتے ہوں گے۔پھر کم بخت کا لفظ سیا ہی سے مٹایا ہے مگر چھپا ہوا کہاں مٹتا ہے۔اب اگر ان صاحب کو واقعہ میں اس پر شرم محسوس ہورہی تھی تو اول اسے چھاپا کیوں ؟ اور پھر خود اپنے ہی قلم سے ہندوؤں اور سکھوں کی نسبت جن کا کوئی قصور نہ تھا کم بخت کا لفظ ان کے قلم سے نکل گیا ؟ کس قدر عجیب بات ہے کہ پانچ دس ہندوؤں سے تو انہیں شرم آرہی تھی مگر اشتہار شائع کر کے اس کو ساری دنیا میں پھیلا دیتے ہیں اور شرم نہیں آتی اور سمجھتے ہیں کہ اب کوئی حرج نہیں۔دنیا میں بیوقوفی کے نی قصے جو مشہور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی بیوقوف نے یہ ڈھنڈورا پٹوایا تھا کہ ہم سے فلاں بیہودہ حرکت ہوگئی ہے مہربانی کر کے کوئی کسی کو بتائے نہیں۔یہی حال میاں فخر الدین صاحب کا ہے۔اگر پانچ چھ ہندوؤں تک اس لفظ کے پہنچ جانے سے انہیں شرم آ رہی تھی تو اشتہار شائع کر کے سارے ملک میں اس کی اشاعت کرتے ہوئے شرم کیوں نہ آئی۔پس یا تو شرم کا دعوی جھوٹا ہے یا پھر وہ ویسے ہی عقلمند ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا قصہ والا شخص عقلمند تھا۔اس کے بعد میں مصری صاحب کے اشتہار میں درج محمدہ باتوں میں سے بعض کے متعلق کچھ کی کہنا چاہتا ہوں۔پہلی بات یہ ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ جماعت نے بلا تحقیق میرے خلاف جذ بہ نفرت کا اظہار کر دیا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ بات درست ہے یا نہیں کہ مصری صاحب نے اپنے خطوں میں لکھا ہے کہ اگر مجھ سے فلاں بات نہ کی جائے تو میں جماعت سے نکل جاؤں گا۔اور جب وہ مانتے ہیں کہ یہ ان درست ہے تو ظاہر ہے کہ یہ کوئی دُنیوی معاملہ تو ہو نہیں سکتا تھا۔جیسے مثلا کسی سکول کا ہیڈ ماسٹر مقرر کئے