خطبات محمود (جلد 18) — Page 268
خطبات محمود ۲۶۸ ۲۲ سال ۱۹۳۷ء شیخ عبد الرحمن مصری کے ایک اشتہار کا جواب (فرموده ۱۶ جولائی ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- کل مجھے ایک اشتہار ملا ہے جو شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کی طرف سے شائع ہوا ہے ۔ اس میں جماعت احمد یہ کو خطاب کیا ہے اور اس ا خطاب کیا ہے اور اس اشتہار کی ابتدا قرآن کریم کی ایک آیت سے کرتے ہیں جو یہ ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى إِلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى یعنی کسی قوم کی دشمنی اور عداوت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے اور نہ اُکسائے کہ تم عدل کو چھوڑ دو۔ چاہئے کہ عدل کرو یہ تقوی کے بہت قریب ہے۔ اس کے بعد جماعت احمد یہ سے گلہ کیا ہے کہ کیوں بغیر تحقیق کے شیخ صاحب کے خلاف اس نے ریزولیوشنز پاس کرنے شروع کر دیتے ہیں ۔ جماعت کے دوستوں کو چاہئے تھا پہلے تحقیقات کرتے اور پھر کوئی رائے قائم کرتے ۔ اور پھر بتایا کہ جماعت کو دھوکا دیا گیا ہے کہ گویا مصری صاحب اپنے اثر و رسوخ کی بناء پر خلیفہ کو دھمکی دیتے ہیں اور اس طرح جماعت میں اشتعال پیدا کر دیا گیا ہے اور ان کو مرتد ، منافق ، فاسق ، فتنه پرداز ، بد باطن وغیرہ الفاظ سے یاد کیا جانے لگا ہے ۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ میں نے بڑائی کا کوئی دعوی نہیں کیا میرے تینوں خطوط اس قسم کے دعوئی سے خالی ہیں بلکہ میرے خطوط میں تو عجز و انکسار کا اظہار ہے۔ اور پھر اپنے وہ الفاظ نقل کئے ہیں جو الفضل میں درج ہو چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان سے غلط نتیجہ نکالا گیا ہے ۔ میں نے ان الفاظ میں اپنی کسی شان کا اظہار نہیں کیا بلکہ عاجزی کا اظہار کیا