خطبات محمود (جلد 18) — Page 254
خطبات محمود ۲۵۴ سال ۱۹۳۷ء جاتے ہیں تو ہر شخص بآسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس شور مچانے سے ان کی کیا غرض ہے۔خیر میری یہ باتیں اس دوست کی سمجھ میں آگئیں اور انہوں نے تسلیم کیا کہ واقعہ میں یہ محض لوگوں کو اشتعال دلانے کے کیلئے کارروائی کی جارہی ہے، نیک نیتی پر مبنی نہیں۔بعینہ یہی طریق مستریوں کا تھا وہ بھی شور مچاتے کہ ہم کی پر ظلم کیا جارہا ہے مگر جب دریافت کیا جاتا کہ کون کر رہا ہے تو کہتے یہ تو نہیں بتا سکتے ، ہاں اس کی ذمہ واری خلیفہ پر ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ رات کے وقت میاں عبدالوہاب صاحب عمر میرے پاس آئے اور کہنے لگے محمد امین خان اور زاہد کی لڑائی ہوگئی ہے اور زاہد کو مارا ہے۔میں نے اُسی وقت زاہد کی طرف آدمی دوڑایا اور کہا کہ اسے میرے پاس بلا لاؤ تا میں اس سے لڑائی کا حال دریافت کروں۔جب وہ آدمی اسے بلانے کیلئے گیا تو اس نے بتایا کہ فضل کریم ، عبد الکریم اور زاہد تینوں گھر میں بیٹھے تھے۔میں نے کی جب کہا کہ حضرت صاحب آپ کو بلاتے ہیں تا تحقیق کی جائے اور جس کا قصور ثابت ہو اُسے سزا دی جائے تو وہ کہنے لگے جاؤ جاؤ ہم تحقیقات نہیں کراتے۔ہمیں پتہ ہے کہ کس حرامزادے نے یہ کام کیا ہے۔آپ ہی کام کراتے ہیں اور آپ ہی اس کی تحقیق کرنے لگ جاتے ہیں۔یہی جواب ہے جو مصری صاحب نے ہمیں دیا۔فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے حرامزادے کا لفظ استعمال نہیں کیا۔چنانچہ لکھتے ہیں ' آپ لوگوں پر اس تحریر کے ذریعہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کو گویا ان مظالم کا علم ہی نہیں جو مجھے پر آپ لوگوں کی طرف سے کئے جارہے ہیں اور گویا آپ تھرڈ پرسن (Third Person) ہیں۔مظالم کرنے والا کوئی اور ہے۔اگر آپ بُرا نہ مانیں تو میں مؤمنا نہ صداقت سے کام لیتا ہوا یہ عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ جو مظالم مجھ پر کئے جارہے ہیں یا آئندہ کئے جائیں گے، ان سب کی ذمہ داری خود خلیفہ صاحب اور ان کے رفقاء کار پر ہے“۔پھر لکھتے ہیں۔چونکہ میرے نزدیک میرے گھر کا دودھ بند کرانے والے، میرے مزدوروں کو رکوانے والے، میرے گھر کی بے پردگی کرانے والے، میرے گھر کی بھنگن کو بند کرانے والے، دکانداروں کو مجھے اور میرے بچوں کو سو دا د ینے سے منع کرنے والے ، میرے مکان کی ناکہ بندی کرانے والے، مجھے ذلیل کرانے کی کوشش کرنے والے، میرے ساتھ میرے دوستوں، عزیزوں کو ملنے سے روکنے والے