خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 25

خطبات محمود ۲۵ سال ۱۹۳۷ء جاتے اور وہاں بند کے بند ہی پڑے رہتے۔ایسی جماعتوں کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری کو گو پہلی دفعہ اوی مخاطب کر لینا چاہئے مگر جب معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے کام میں سُست ہیں تو پھر پریذیڈنٹ اور سیکرٹری کو چھوڑتے ہوئے جماعت کے جو دوسرے افراد ہوں ان کو مخاطب کیا جائے۔چنانچہ اب بھی بعض مقامات سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔اُن میں یہی لکھا ہے کہ ہمارے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں نے ہمیں کوئی تحریک نہیں کی ہمیں دوسرے ذرائع سے تحریک کا علم ہوا اور اب ہم اس تحریک میں جو حصہ لے رہے ہیں یہ منفردانہ حصہ ہے۔گویا ان پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کسی مکان کی بدر رو بند ہو جائے۔جب کسی مکان کی بدر رو بند ہو جائے گی تو تو پھر اس کے اندر جتنا پانی آئے گا اندر ہی رہے گا اور آہستہ آہستہ دیوار کو گرا دے گا۔غرض پریذیڈنٹ اور سیکرٹری جو درمیانی واسطہ ہیں جب ان پر غفلت اور سستی چھائی ہوئی ہوتی ہے تو جماعت کے دوسرے افراد پر بھی سستی اور غفلت چھا جاتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بسا اوقات جو پچست لوگ ہوتے ہیں اُن کے دلوں پر بھی زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اس لئے ایک طرف تو میں عہد یداروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جن پریذیڈنٹوں یا سیکرٹریوں نے انہیں جواب نہیں دیا اب دوبارہ وہ انہیں مخاطب نہ کریں بلکہ جماعت کے دوسرے افراد کو مخاطب کریں اور لکھیں کہ آپ کی جماعت کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری چونکہ خاموش ہیں اور انہوں نے اس تحریک کا کوئی جواب نہیں دیا اس لئے ہم آپ کو مخاطب کرتے ہیں۔لیکن ساتھ ہی اس امر کی تصریح کر دیں کہ اس چندہ کیلئے ہر گز کسی کو مجبور نہ کیا تو جائے۔ہاں تمہارا یہ فرض ہے کہ ہر مرد اور عورت تک یہ تحریک پہنچاؤ۔اس تحریک کے اغراض و مقاصد انہیں بتاؤ ، اس کی اہمیت اور ضرورت ان کے ذہن نشین کرو اور پھر تمام حالات بتانے کے بعد ان سے پوچھو کہ آیا وہ اس میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں اگر کوئی شخص حصہ نہیں لے سکتا یا نہیں لیتا تو اس پر اصرار نہ کی کرو کہ تم اس میں ضرور حصہ لو۔اور جو لوگ خوشی سے اپنا نام لکھا ئیں ان کے ناموں کی فہرست جلد سے جلد مکمل کر کے دفتر کو بھجوا دی جائے۔اس کے ساتھ ہی میں جماعتوں کے افراد کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری سست ہوں وہاں کی جماعت کے دوسرے افراد کو چاہئے کہ وہ اس کام کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔خدا تعالیٰ کے کام پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں سے وابستہ نہیں ہوتے اور نہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کسی جماعت سے یہ پوچھے گا کہ تمہارا پریذیڈنٹ یا سیکرٹری کیسا تھا بلکہ وہ افراد