خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 24

خطبات محمود ۲۴ سال ۱۹۳۷ء مسائل پھر بھی حل ہوتے رہتے ہیں، فتوحات پھر بھی ہوتی رہتی ہیں، بیمار پھر بھی اچھے ہوتے رہتے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی بڑے سیاستدان کے مرجانے کے بعد سیاست کی پیچیدہ گتھیاں سمجھنے سے رہ جائیں یا کسی بڑے جرنیل کے مرجانے کے بعد لڑائی میں ہمیشہ شکست ہوتی چلی جائے یا کسی مسیح الزمان کے مرجانے کے بعد بیمارا چھے نہ ہوتے ہوں بلکہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک مسیح الزمان مرتا ہے تو دوسرا مسیح الزمان پیدا ہو جاتا ہے۔ایک بادشاہ مرتا ہے تو دوسرا با دشاہ پیدا ہو جاتا ہے ایک سیاستدان مرتا ہے تو دوسرا سیاستدان پیدا ہو جاتا ہے۔صرف قوم میں بیداری اور اپنے فرض کو پورا کرنے کا احساس ہونا چاہئے۔پس انسانوں پر اپنے کاموں کا انحصار نہیں رکھنا چاہئے۔میں دیکھتا ہوں اسی نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے باہر کی جماعتوں کو بھی غلطی لگ رہی ہے۔چنانچہ بعض جماعتوں کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری جوئست ہوتے ہیں یا خود اُن کی مالی حالت ایسی اچھی نہیں ہوتی کہ اس تحریک میں حصہ لے سکیں وہ خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور ان کے خاموش بیٹھے رہنے کی وجہ سے ساری جماعت خاموش رہتی ہے اور نیک تحریکات میں حصہ لینے سے محروم رہتی ہے۔لیکن جہاں کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری چست ہوں وہاں کی جماعت کے افراد کی رلسٹیں فوراً مکمل ہو کر پہنچ جاتی ہیں۔چنانچہ اسی چندہ تحریک جدید کے متعلق گزشتہ دنوں میں نے بعض جماعتوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ جلد بازی میں نامکمل فہرستیں نہ بھیجیں۔ان جماعتوں سے میری مراد وہی جماعتیں تھیں جو ہوشیاری اور تیزی میں ایک دوسرے سے بڑھنا چاہتی تھیں۔چنانچہ میں دیکھتا تھا ہوں کہ ان جماعتوں کے چندہ میں ۲۵ فیصدی کی زیادتی ہوئی ہے۔لیکن اب وہ جماعتیں رہ گئی ہیں جن کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری سست ہیں۔دفتر والے کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں تحریکیں بھیج دیں مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔میں نے گزشتہ سال بھی بتایا تھا کہ جس جگہ کی جماعت کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری سست ہوں وہ مرکز سے جو تحریکات جائیں یا تو انہیں پڑھتے ہی نہیں اور اگر پڑھیں تو چُھپا دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں اگر جماعت کے دوسرے افراد کو بھی ان تحریکات کا علم ہو گیا تو ہمارے حصہ نہ لینے کی وجہ سے ہمیں شرمندگی ہوگی۔حالانکہ تحریک جدید کوئی جبری تحریک نہیں کہ اس میں شرمندگی کا سوال ہو۔مگر پھر بھی بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جو اپنی کمزوری کو چھپا کر جماعت کو بد نام کرنا چاہتی ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول کے زمانہ میں بھی بعض دفعہ میں نے خود یکھا کہ پیکٹ کے پیکٹ قادیان سے باہر کی بعض جماعتوں کو بھیجے